عباسی شہید اسپتال تباہی کے دہانے پر

شہر کے تیسرے بڑے سرکاری اسپتال کا درجہ رکھنے والا عباسی شہید اسپتال فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمی کے ماتحت 900 سے زائد بستروں پر مشتمل عباسی اسپتال فنڈز کی عدم دستیابی اور کئی سال سے صوبائی عدم توجہی سے اسپتال مختلف بڑے مسائل کا شکار ہوکر تباہ ہورہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈز کے نہ ملنے سے اسپتال کے مختلف شعبے عملی طور غیر فعال ہیں جن میں فارمیسی اور ریڈیالوجی، یورولوجی اور شعبہ امراض قلب سر فہرست ہیں جبکہ دیگر اہم شعبہ جات جن میں پلاسٹک سرجری، نیورو سرجری، برن وارڈ ماہر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث بندش کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام شعبہ جات کو سینیئرز کی عدم دستیابی کے باعث جونیئر ڈاکٹر چلارہے ہیں۔

علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو ادویات کی بنیادی سہولت بھی حاصل نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں کئی گنا کمی آچکی ہے۔ جبکہ اسپتال میں دو سال سے مریضوں کو خوراک کی فراہمی بھی بند ہے۔ گزشتہ 5 سال سے بھرتیاں نہ ہونے سے طبی و نیم طبی عملے کی قلت ہے۔ ڈاکٹرز سمیت نرسز اور دیگر اسٹاف کی 650 اسامیاں خالی ہیں۔ سینی ٹیشن کا عملہ نہ ہونے سے اسپتال میں صفائی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق خراب طبی آلات اور مشینری میں بہتری لانے اور نئے طبی آلات منگوانے کءی اشد ضرورت ہے مگر یوں لگتا ہے کہ صحت موجودہ حکمرانوں کی بھی اولین ترجیح نہیں ہے۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us