کروڑوں کی سبسڈی فلورملز مالکان ہڑپ کر گئے!

حکومت سندھ کراچی فلور ملز مالکان کو ایک ماہ میں سرکاری گندم پر 84 کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کے باوجود آٹے کے نرخوں میں کمی نہیں کروا سکی۔ایک ماہ گزر جانے کے باوجود ایکس مل کے نرخوں کا ریٹ مقرر نہیں ہو سکا۔جس کے باعث فلور ملز مالکان من مانے نرخوں پر آٹا فروخت کر رہے ہیں۔سندھ کے محکمہ خوراک نے پہلے کراچی کی فلور مل کو لانڈھی کے گوداموں سے ماہانہ 12 ہزار 500 بوری دینے کا فیصلہ کیا لیکن لانڈھی کے گوداموں سے ملنے والی گندم میں خراب گندم اور زیادہ مٹی والی گندم ہونے کی شکایت پر پاسکو نے محکمہ خوراک کو ایک ٹن گندم دی تھی سندھ کے محکمہ خوراک نے کراچی کی فی فلور مل کو اندرون سندھ پاسکو کے گوداموں سے بھی ماہانہ 6100 بوری جاری کی جارہی ہیں۔حکومت سندھ عوام کو مناسب نرخوں پے آٹے کی فراہمی کے لیے 650 روپے کی فی بوری سبسڈی برداشت کرتے ہوئے۔جو بوری 4 ہزار 100 روپے کی تھی سندھ حکومت 3 ہزار چار سو 50 روپے میں دے رہی ہے اس سب کے باوجود مالکان نے نرخ کم نہیں کیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us