کراچی کا پانی, لیکن چور کون؟

سمندر کے کنارے آباد کراچی شہر لیکن پانی نہیں کراچی میں کچھ ایسے بھی علاقے موجود ہیں جہاں پانی 30 دن میں یا پھر 2 ماہ بعد فراہم کیا جاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہیں آخر کراچی اتنا بڑا شہر جس کی کل آبادی تقریبا 3 کروڑ کے قریب ہے لیکن پانی سے محروم کیوں ہے آخر کیا وجہ کون ذمہ دار ہے؟ ان علاقوں میں ضلع غربی اور ضلع وسطی کے ایسے علاقے شامل ہے جہاں پانی کی پائپ لائین ہی نہیں لیکن جن علاقوں میں وہاں پانی نہیں آتا تو شہری احتجاج کرتے ہیں  ٹائر جلائے جاتے ہیں ، نعرے لگاتے ہیں ، دل کی بھڑاس اسی طرح نکالتے ہیں ، لیکن پھر بھی پانی نہیں ملتا،شہری ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں، گدلا اور بدبودار پانی خریدنے پر مجبورہیں

ہائیڈرنٹ سے روزانہ 300 سے400  ٹینکرز مہنگے داموں فروخت کیے جاتے ہیں،فی ٹینکر 4000سے 9000 تک فروخت کیا جاتاہے لیکن یہ چھوٹا ٹینکر ہے اکثر کراچی کے ایسے علاقے ہیں جہاں   10،000 بھی لیے جاتے ہیں جن میں ڈیفنس اور بیشتر علاقے موجود ہیں،لیکن کراچی کا پانی کون چوری کرتا ہے ؟ یہی ٹینکر مافیہ ہے جو پانی کی سپلائی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے جو پائپ لائین کینجھر جھیل سے یا پھر حب ڈیم سے گزرتی ہے اُن پائپ لائینز میں سے پانی چوری کیا جاتا ہے یہی لوگ پانی شہر میں آنے سے پہلے ہی چوری کر لیتے ہیں جسکی وجہ سے کراچی کی آبادی پانی سے محروم ہے لیکن ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی آخر کیا وجہ ہے کیوں ان لوگوں کو پکڑا نہیں جاتا ؟ کیونکہ ان میں ملوث کالی بھیڑیں ہے جو سائیں سرکار کی حکومت کے ساتھ ملی ہوئی ہیں ان کو روزانہ پیسے دیے جاتے ہیں اسی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us