’کاش عدنان مجھے یا گھر کے کسی بڑے کو بتا دیتا‘


صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے شانگلی بالا میں مقامی پولیس حکام اور رشتے داروں نے تصدیق کی ہے کہ نویں جماعت کے طالب علم محمد عدنان نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد تصاویر اور ویڈیو کی بلیک میلنگ کے ڈر سے خودکشی کی تھی۔

یاد رہے کہ محمد عدنان کی پھندے سے لٹکی لاش 14 مارچ کو ملی تھی جبکہ پولیس اور اہلیاں علاقہ نے ملزمان کو 25 مارچ کو شناخت کرکے قانون کے حوالے کیا۔ محمد عدنان کے چچا محمد اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ 14مارچ کی شام کو جب عدنان کا پتا نہیں چل رہا تھا تو ہم سب لوگ پریشان ہوئے اور پورے علاقے میں تلاش شروع کردی، کئی گھنٹے تک عدنان کو تلاش کرتے رہے۔ ’مگر رات گئے جب اس کے گھر کے اوپر والے حصے میں گئے تو اس کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس موقع پر گھر میں کہرام مچ گیا تھا۔ اس کی لاش کو

جواب چھوڑیں

Your email address will not be published.

WhatsApp WhatsApp us