میڈیا کو منع ۔ مولانا کی بولتی بند کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پیمرا نے ٹی وی چینلز کے مالکان اور نیوز ڈائریکٹرز کو پیغام بھیجا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس نشر نہ کی جائے۔

تین نجی ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان ٹوئنٹی فور کو تصدیق کی ہے کہ ان کو یہ پیغام غیر رسمی طور پر واٹس ایپ، ٹیکسٹ میسج کے علاوہ ڈی جی پیمرا کی جانب سے فون کال پر بھی ملا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ آچکا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے ۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے اس دھرنے کی حمایت کر دی ہے  ۔ لیکن میڈیا پر سے مولانا فضل الرحمان کو غائب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ میڈیا مالکان کو کیا کسی نے ہداہت جاری کی ہے کہ مولانا کی پریس کانفرنس اور مظاہروں کو نہیں دکھانا ہے ۔ اس حوالے سے مختلف صحافی بول پڑے ہیں ۔ غریدہ فاروقی نے اس پر کھل کر اظہار کیا ہے کہ مولانا کے حوالے سے میڈیا پابندی کا شکار ہے ۔

لیکن کیا حکومت نے تمام چینلز کو منع کیا ہوا ہے کہ وہ مولانا کی کوئی پریس کانفرنس نہ دکھائے یا اس کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ ہے ؟ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے زبردست بحث جاری ہے ۔ تحریک انصاف نے جب دھرنا دیا تھا تو اسے مکمل میڈیا کوریج دی گئی تھی ۔ نیوز چینلز پر اس کے حوالے سے پورا دن خبریں چلتی تھی ۔ لیکن اس بار میڈیا کو بہت زیادہ دبایا جارہا ہے کہ مولانا کی کوئی خبر نہ چل پائے ۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا مطلب یہ سمجھا جئے کہ ایمپائر اس وقت مولانا کے ساتھ نہیں ہے ۔ یہ بات کہی جاتی تھی کہ عمران خان کے دھرنے کے پیچھے انھیں طاقت ور اداروں کی حمایت تھی ۔

پاکستان میں آزادی صحافت کے حوالے سے کئی سوالات کیے جارہے ہیں ۔ وہ کون سے نادیدہ ہاتھ ہیں جنھوں نے میڈیا کو جکڑا ہوا ہے ۔ کئی لوگوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ کیا مثبت خبروں کا مطلب صرف حکومت کی تعریفیں ہیں؟

ایک نیوز ڈائریکٹر نے بتایا کہ یہ کوئی حکم نہیں ہے تاہم عمل نہ کرنے کی صورت میں نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی جماعت کی جانب سے کیے جانے والے آزادی مارچ پر میڈیا کو آج بریفنگ دے رہے ہیں۔

ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹرز نے بتایا کہ ان پر طاقتور حلقوں کی جانب سے کوئی دباؤ نہیں ہے تاہم حکومتی عہدیدار غیر رسمی انداز میں اپنی خواہش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us