آغا خان اسپتال اور محلے کے کلینک میں کوئی فرق نہیں

اپنے پیاروں کو کسی بھی قسم کی تکلیف میں دیکھ کر ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا علاج ایسی جگہ سے کروائے جہاں صحیح طریقے سے مکمل علاج ہوسکے۔ جس کے لیے اسکے گھر والے کبھی قرض لے کر تو کبھی اپنی قیمتی اشیا بیچ کر  مہنگے اسپتالوں میں علاج کروانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ آغا خان اسپتال جسے علاج کے حوالے سے بہت ہی اچھا سمجھا جاتا ہے اب اپنی ساخت کھو بیٹھا ہے۔ 

مریض مرچکا ہو اسے آئی سی یو میں رکھ کر پیسے بنانا، آپریشن کے لیے لاکھوں روپے لینے کے بعد آپریشن کے دوران مشینوں کا خراب ہوجانا، ڈاکٹرز کا مرض کی صحیح تشخیص نہ کرنا اور  ایک ایک ٹیسٹ کے ہزاروں روپے وصول کرنے کے باوجود ٹیسٹ رپوٹ غلط دینا۔ یہ اور اسطرح کے کئی کیسز آغا خان اسپتال سے متعلق سامنے آتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک شہری نے ہیپاٹائٹس بی کے ٹیسٹ آغا خان سے کروائے۔ آغا خان کی ٹیسٹ رپوٹ کے مطابق مریض کو ہیپاٹائٹس بی ہے جبکہ وہی ٹیسٹ دوسرے اسپتال سے کروانے پر پتہ چلا کہ مریض بلکل صحت مند ہے۔ آغاخان جیسے پیسے لوٹنے والے اسپتالوں کو شہریوں کو بے وقوف بنانے اور لوٹنے سے کون روکے گا؟ مزید جانیے نیچے دی گئی ویڈیو اس شہری کی زبانی جس کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us