حریم شاہ لیکس یا پھر سیاست کا کیچڑ!

فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ۔۔۔ یہ تمام apps یوں تو سماجی رابطے کو آسان بنانے کے لیے بنی تھیں، لیکن پاکستان میں ان کا استعمال فحاشی پھیلانے والی ویب سائٹس کی طرح کیا جاتا، جن کا نام واضع کرنا بھی غیر مناسب ہے۔  کبھی ان ایپس کا مقصد سستی شہرت پانا بن جاتا ہے یا پھر سیاسی زبان میں، کسی کو "expose” ایکسپوز کرنا!

لیکن یہاں سب سے اہمیت کی حامل تو ہماری خواتین ہیں، جو پاکستان جیسے ملک میں جنم لینے اور یہاں کے معملات جانتی ہیں کہ اس ملک میں ہر سال سب زیادہ عوارتیں ہی قتل ہوتی ہیں اور وہ بھی غیرت کے نام پر۔ ایسے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹویٹر کی دو خواتین، جو دیکھنے میں تو معمولی اور متوسط طبقے کی ہی لگتی ہیں، آج کل ایک انوکھے مشن پر لگی ہیں۔

حریم شاہ اور صندل خٹک کئی دنوں سے ٹویٹر اور ٹک ٹاک پر ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہیں، جہاں ہر آئے دن وہ یا تو کسی اہم سرکاری دفتر کا دورہ کرتی، دروازوں کو پیروں سے کھولتی یا کسی حکومتی اہلکار کو "ایکسپوز” کرتی نظر آتی ہیں۔

اور یہاں تو "ایکسپوز” بھی صرف حکومتی اہلکار ہی ہورہے ہیں جن میں بڑے بڑے نام جیسے وزیر ریلوے شیخ رشید، پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور اینکر مبشر لقمان وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ اعلٰی سیاسی شخصیات جیسے عمران خان، جہانگیر خان ترین، علیم خان، شاہ محمود قریشی، فود چوہدری، نعیم الحق کی حریم شاہ اور صندل خٹک کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ اور ہر آئے دن کسی منسٹر کو "ایکسپوز” کرنے، اس کی وڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں بھی وہ دیتی رہتی ہیں۔  سننے میں تو یہ بھی آہ رہا ہے کہ اس کام کے لیے انہوں پچھلے چار/پانچ سالوں سے کام کر رہی تھیں۔

یہاں حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس سے چھڑنے والی بحث میں عوام حریم شاہ اور صندل خٹک کا انجام بھی قندیل بلوچ جیسا ہونے کی خواہش یا اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں لیکن اُن منسٹروں یا سیاستدانوں کا نام کوئی نہیں لے رہا جو ان دونوں کے ساتھ اس تمام عمل میں شریک تھے۔

منسٹر فواد چوہدری اور اینکر مبشر لقمان کی ایک نجی تقریب میں ہونے والی لڑائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان دونوں کے پاس ایسا مواد ہے کو کئی افراد کو پھنسانے، اُن کو دھمکیاں دینے اور ایکسپوز کرنے کے لیے کافی ہو۔ اور یہی سب اُن کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں کا باعث بھی بن رہا ہے۔

پاکستانی سیاست میں ایکسپوز کرنے اور ہونے کی روایت کافی پرانی ہے۔ اس سے قبل قندیل بلوچ نے بھی کئ افراد کو ایکپوسز کرنا چاہا، جن کو ایکسپوز کرتے کرتے وہ خود ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ دیگر افراد اپنی موج میں زندہ پھر رہے ہیں۔

ماڈل ایان علی بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی جرائم میں ان کے ساتھ منسلک پائی گئیں۔ اُن کو منی لانڈرنگ کرتے پکڑنے والا کسٹمز اہلکار کو قتل کر دیا گیا جبکہ ایان علی کا کریئر بھی اس واقعے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ جہاں بات رہی پی پی پی کی، تو وہ تو ویسی کی ویسی ہی ہے۔

ایسے ہی ہمیشہ کی طرح مرد حضرات نازیبہ حکرات کر کے ہمیشہ کی طرح آنچ آئے بغیر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں، جبکہ فساد کا سارا ملبہ عورت کے سر ہی ڈال کر، اُسے سنگسار کیا جاتا رہا ہے۔

خواہ وہ چیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا واقعہ ہو یا جج ارشد ملک کا واقعہ۔

ایسے ہی طاقتور مردوں کے بنائے ہوئے معاشرے اور اس کے فساد میں پاکستان Child trafficking, اور Child pornography ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔ یہاں سہیل ایاز جیسے لوگ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھتے ہیں۔ یہاں قصور ریپ جیسے واقعات ہوتے ہیں۔

یہاں #Metoo کو فروغ دینے کی ہر کوشش ناکام بنا دی جاتی ہے!

اور یہی ہے پاکستانی سیاست کا کیچڑ جس میں ہم اور آپ برابر کے شریک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us