مولانا کا دھرنا اپنی منزل کی طرف پہنچ گیا

مولانا فصل الرحمان نے ٹھیک 14 روز قبل آزادی مارچ کا اعلان کیا اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں شرکت کرنے کے لیے کہا مولانا کا یہ آزادی مارچ کراچی سے روانہ ہوا اس کے بعد اندرون سندھ سے ہوتا ہوا سکھر میں جا پہنچا،سندھ میں تو پیپلز پارٹی نے ان کا خوب خیر مخدم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہی قافلہ پنجاب میں داخل ہوا جس کا استقبال مسلم لیگ ن کے رہنما نے کیا اس کے بعد یہ قافلہ پشاور پہنچا،جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج 14 واں روز ہے اور شرکاء اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں موجود ہیں۔آج مولانا فضل الرحمان نے اچانک ایک بڑا فیصلہ کر لیا

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان سے فوری مستعفی ہونے اور نئے انتخابات سمیت دیگر مطالبات کر رکھے ہیں تاہم حکومت اور اپوزیشن میں وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

پشاور موڑ پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ آج یہاں سے روانہ ہو کر صوبوں میں سڑکیں بلاک کرنے والوں سے جا ملیں گے۔

اجلاس میں پشاور موڑ پر جاری آزادی مارچ  کا دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور جے یو آئی (ف) کا دھرنا آج سے ملک بھر میں پھیل جائے گا۔

جے یو آئی ف کے مشاورتی اجلاس میں تمام صوبائی امراء نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبے میں سڑکیں اور شاہراہیں بند کریں گے۔

جے یو آئی ف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارا پلان بی پلان اے سے بھی زیادہ شدید ہو گا اور ہم نے شہروں کو بند کرنے کے لیے موٹر وے اور نیشنل ہائی ویز کی نشاندہی بھی کر لی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا مولانا فضل الرحمان یہ سب بند کر پائیں گے؟ کیونکہ  ابھی تک مولانا نے کچھ حاصل نہیں کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us