ملک کا سب سے تیزی سے پاس ہونے والا بل: آرمی ترمیم ایکٹ!

نئے سال میں نئے پاکستان والوں کی جانب سے نئی پھرتی۔

قانون سازی کا عمل، ہفتوں اور دنوں میں طے، وہ بھی بغیر کسی بحث اور اپوزیشن رہنماوٗں کی حمایت کے ساتھ۔ آخر اس سے پہلے کب دیکھا گیا اتنا انقلاب ؟

سینٹ سے پاس ہونے کے بعد، آج نیشنل اسمبلی میں بھی آرمی ترمیمی منظور ہوگیا اور یوں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ کچھ الہجنے کے بجائے مزید سلجھ گیا ہے۔

مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی، ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں نے تو اس بل کو گرین سگنل دے کر معاملہ ملک کے ‘درینہ’ مفاد کے حوالے کردیا لیکن مولانہ فضل الرحمٰن کی پارٹی جماعت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نے اس بل کی کھلی مخالفت کرنا چاہی لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔

اس کے علاوہ مخالفت کرنے والوں میں سابق فاٹا کے دو ایم پی اے محسن داور اور علی وزیر خان  نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔

آرمی چیف اور جوئینٹ چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت ۶۰ سال تک کی تھی لیکن اس نئی قانون سازی کے بعد اب وزیر اعظم اور صدر کی ہدایت پر چند کیسس میں وہ ۶۴ برس رکھ دی گئی ہے۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ ملک کے کسی آرمی چیف کی مدت ملازمت پر اس طرح سوال اُٹھایا گیا ہو۔ اس سے پہلے ملک کے بد ترین آمریت کا دور سہنے کے بعد ہر آرمی چیف   کی اُمید ہوتی تھی کہ اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ہو یا پھر جمہوری عمل میں مداخلت کی دعوت دے کر، ملک کے کرپٹ حکمرانوں سے چھٹکارا پانے کی گزارش کی جاتی تھی۔ کئی بار ایسے شواہد بھی مل چکے ہیں جہاں سویلین حکمران خود بوٹ والوں کی مدد یا ان کی مداخلت کی اپیل کر رے ہوں۔

کئی آرمی چیف ایسے بھی گزرے جنہوں  نے خود ملک کے جمہوری نظام کو روندتے ہوئے، خود کو بے ساختہ ایکسٹنشن دی گئی جس سے نا صرف اس ادارے میں ترقی پانے والوں کے آڈر میں اضافہ ہوا، بلکہ کئی سینئر آرمی افسران نے احتجاج میں مستعفیٰ بھی ہوئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت، فوج میں lacuna کی نشاندہی بھی کرتی ہے جہاں فوج میں میرٹ کے نظام کو روندتے ہوئے، ایک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر کے دیگر کو ترقی کا موقع نہیں دیا گیا۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو توسیع کیوں دی گئی، تو اس حوالے سے بھی کوئی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اگست ۲۰۱۹ میں جب وزیر اعظم کی جانب سے اس کا اعلان کیا گیا تب ملک کے بھارت کے ساتھ گشیدگی کو اس کی وجہ قرار دیا گیا لیکن جب اس حوالے سے نومبر میں صدارتی آرڈینیس سامنے آیا تو کوئی ٹھوس وجہ نہیں دی گئی تھی۔

اپوزیشن کی جانب سے اس آرمی ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی تھی، کہ وزیر اعظم کسی آرمی چیف یا چیف جوائیٹ اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع سے قبل پارلمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قومی سیکورٹی کو اعتماد میں لازمی لیں گے۔ لیکن حکومت کی جانب سے اپوزیشن کی کسی بھی تجویز پر بحث یہ کہہ کر نہیں ہوئی کہ ابھی اس کا وقت نہیں۔

اس سے جہاں جمہوری عمل پسند لوگ شدید غم اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں کچھ یہ بھی کہتے پائے گئے ہین، کہ چلو انہوں نے کبھی تو کطھ آئینی کیا۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us