ماں باپ کے بعد بیٹا بیٹی بھی ہیں لنچ کے لیے تیار؟

بلاول کی مریم نواز کے ساتھ دعوت افطار کی تصاویر نے ماضی میں ہونے والے ایک سیاسی اتحاد کی یاد تازہ کردی ۔

 2006 میں لندن میں ہونے والی ملاقات نے پاکستان کو میثاق جمہوریت دیا جس میں نہ صرف قانون کی حکمرانی، جمہوریت، میرٹ، صحت، تعلیم، بنیادی حقوق، اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم، صوبائی خودمختاری، میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کے ساتھ ساتھ  غربت ، جہالت، بیماری اور کلاشنکوف کلچر کے خاتمے کی اہمیت کو بھی محسوس کیا گیا۔

چارٹر آف ڈیموکریسی کے تمام نکات ایک طرف جبکہ چند نکات نے زیادہ توجہ حاصل کرلی یا یہ کہا جاءے کہ ملکی سیاست کاسب سے زیادہ حصہ رہنے والی سیاسی جماعتوں ( پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ ن کے نواز شرف  نے یہ چارٹر ساءن ہی ان ہی نکات کو تقویت دینے کے لیے کیا ۔ جیسے  قومی سلامتی کونسل کے خاتمے اور کسی شخص کے دو سے زائد بار وزیراعظم بننے پر پابندی کا  خاتمہ، ایک کمیشن کے قیام کی تجویز جو اس بات کا تعین کرے  کہ آیا کو ئی سیاسی مخالف ریاستی جبر اور انتقامی احتساب کا نشانہ تو نہیں بن رہا ، وزیر اعظم کو قائد حزب اختلاف کے مشورے سے قومی احتساب بیورو( نیب ) کے چیئرمین کا تقررکرنے کا پابند بنانے کے علاوہ  آئی ایس آئی۔ ایم آئی اور دوسری ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے سامنے جوابدہ بنانے جیسے اقدامات شامل تھے ۔

 اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاول اور مریم کی گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات پاکستانی عوام کو کیا دیں گے یا پھریہ صرف چارٹر آف ڈیموکریسی کی اگلی نسل کو منتقلی ثابت ہوگی ۔

 عمران خان نے اسے میثاق جمہوریت  کے بجاے میثا ق کرپشن کے نام سے پکارا ، یہ نا م کتنا صحیح یا کتنا غلط ہے اسکا فیصلہ عوام بہتر کرسکتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us