سعودی عرب میں میوزک کنسرٹ


    صفیہ شکیل

    نامور گلوکارہ  نکی مناج نےبے شمار تنازعات کے باعث سعودیہ میں ہونے والے کنسرٹ سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

    انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری کے فروغ اور اپنے ملک کو قدامت پسند معاشرے سے نکال کر آزاد خیال معاشرے کی طرف لے جانے کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان نے آئندہ ایک دہائی میں 64 ارب ڈالر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے بعد سعودی عرب میں خواتین کو کاروبار کرنے کے ساتھ ساتھ  ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اسکے ساتھ ساتھ سینما گھروں میں فلموں کی نمائش پر پابندی بھی ہٹادی گئی تھی۔

    اسی سلسلے میں سعودیہ میں رواں ماہ کے آغاز میں ثقافتی میلے کا اہتمام کیا گیا جس میں نامور گلوکاروں جیسے نکی مناج، برطانوی گلوکار لیام پائن اور امریکی ڈی جے اسٹیو اوکی کو سعودیہ عرب کی مقدس سرزمین پر پرفارمنس کیلئے مدعو کیا گیا۔ کیونکہ سعودیہ ایک مقدس سرزمین ہے اس لئے سوشل میڈیا پر صارفین نے میوزک کنسرٹ کے عہدیدادران کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جسکے بعد نیویارک کے زیر اہتمام انسانی حقوق فاؤنڈیشن نے خط لکھ کر نکی مناج  سے جدہ میں ہونے والے ثقافتی میلےمیں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

    36سالہ نکی مناج نے 2007 میں گلوکاری کی شروعات کی۔ گلوکارہ اب تک 300 سے زائد گانوں میں پرفارمنس کے ساتھ کئی عالمی ایوارڈز بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔

    جواب چھوڑیں

    Your email address will not be published.

    WhatsApp WhatsApp us