دعا منگی کے اغوا کاروں کا پتہ نہ چل سکا

کراچی کے علاقے ڈیفینس سے اغوا کی گئی دعا نثار کو 28 گھنٹے بعد بھی تلاش نہ کیا جا سکا۔ پولیس اغوا کاروں کا سراغ لگانے میں بری طرح ناکام ہے۔

کار سواروں نے پیدل چلتی لڑکی کو اغوا کر کے ساتھ چلتے لڑکے کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں اب لڑکی کے والدین کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ دعا منگی کے اہل خانہ نے لاہور کے رہایشی مظفر نامی شخص پر شبہ ظاہر کیا ہے۔والدین کا کہنا ہے کہ دونوں دوست تھے اور ان میں کچھ عرصہ پہلے جھگڑا ہوا تھا۔ دعا اس رات جس سالگرہ گئی تھی وہاں مظفر بھی موجود تھا۔ دعا پرسوں رات دوست کی سالگرہ میں گئی تھی۔ تقریب کے بعد وہ حارث کے ساتھ واک کرنے باہر نکلی تھی۔ دعا چند ماہ قبل ہی بیرون ملک سے سے کراچی آئی تھی۔ دعا تعلیم کے سلسلے میں امریکا گئی جہاں پر مظفر سے ملاقات ہوئی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق کراچی ڈی ایچ اے بخاری کمرشل ایریا سے گن پوائنٹ پراغواء کی جانیوالی لڑکی کا درخشان تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں اقدام قتل اور اغواء کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ درخواست زخمی نوجوان حارث کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ پولیس اور رینجرز نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us