خان صاحب کا ایک اور یوٹرن !

میں ان لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا میں ان کو جیلوں میں ڈالوں گا، خان صاحب یہ سب اس وقت کہا کرتے تھے، جب انھوں نے نیا نیا عہدہ سنبھالا تھا، لیکن اس وقت عمران خان کو اپوزیشن کے بارے میں معلوم نہیں تھا اپوزیشن کس بلا کا نام ہے،مولانا کے دھرنے کے بعد عمران نرم دل دیکھائی دیتے ہے یہ وہی شخص ہیں جو کہتے تھے میں ان کو این آر او نہیں دو گا، نواز شریف جیسے ہی بیمار ہوئے اور مولانا کے دھرنے نے اپوزیشن کو ایک نئی روح پھونک دی ہے ، آج وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ جس میں وزیر اعظم نے  کہا کہ آزادی مارچ سے متعلق معاملات مذاکراتی کمیٹی دیکھ رہی ہے، مذاکرات کے دوران سخت بیانات دینے سے گریز کریں۔

اجلاس میں بعض رہنماؤں نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا این آر او ہے؟  جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ واضح کر دوں کہ یہ بالکل این آر او نہیں ہے، آپ ہر فورم پر این آر او کے تاثر کی نفی کریں‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں ان سے ہمدردی ہے، نوازشریف کا نام علاج کے لیے ای سی ایل سے نکال رہے ہیں، این آر او تب ہو  اگر ان کے خلاف مقدمات کی حکومت پیروی نہ کرے، ان کے خلاف مقدمات موجود رہیں گے، صحت مند ہوکر انہیں ان کا سامنا کرنا پڑے گا، جب وہ صحت مند ہو جائیں گے تو سیاسی میدان میں لڑائی لڑیں گے۔ لیکن خان صاحب یوٹرن لینے میں بہت ہی ماہر سمجھے جاتے ہیں اسی وجہ سے عمران کا نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us