بلے کی تبدیلی ہوئی پرانی،اب مولانا کی تبدیلی

14 اگست 2014 مسلم لیگ ن کی حکومت کو آئے ابھی 14 ماہ ہی ہوئے تھے کہ اُس وقت کے اپوزیشن رہنماء اور موجودہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان ایک لشکر لیکر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے لیے نکل پڑے جو کہ بظاہر تو الیکشن 2013 میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف تھا لیکن جناب عمران خان نے یہ ڈیمانڈ کی کہ وزیراعظم نواز شریف جب تک استعفیٰ نہیں دینگے تب تک میں دھرنا ختم نہیں کرونگا. اس وقت اہلِ دانش کا یہ خیال تھا کہ حکومت کو آئے ابھی صرف چودہ ماہ ہوئے ہیں اسے کچھ وقت دیا جائے اور اگر کسی کو الیکشن کے پروسیس پے کوئی شکایات ہیں تو مل بیٹھ کر انکا ازالہ کیا جائے تاکہ آنے والے انتخابات شفاف اور قابلِ قبول ہو سکیں. لیکن خان صاحب نے کسی کی نہیں سنی یہاں تک کہ "نکے دے ابے” کی بھی یقین دہانی کو نا قابلِ اعتماد گردان کر اپنی ضد اور انا پر قائم رہے اور دھرنا 126 دن تک جا پہنچا, آرمی پبلک اسکول پشاور میں 16 دسمبر کو حملہ ہوا ڈیڑھ سو سے زائد نازک اور قیمتی جانیں قربان ہوئیں تب جا کر اُس دھرنے سے نجات ملی.
اُس وقت کے دھرنے کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا اور وہ اس وقت کے وزیراعظم کا استعفیٰ, ایسا لگتا تھا کہ عمران خان کی نواز شریف کے ساتھ کوئی ذاتی (Personal) معاملات ہیں جو صرف استعفیٰ کی صورت میں ہی مکمل ہو سکتے ہیں. اس وقت کی حکومت کے اتحادی اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کے لانگ مارچ کے متعلق کہا تھا کہ "ان جتہوں کو اسلام آباد سے خالی کرانا ہوگا” اور یہ جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں.
اب اگر آپ مولانا فضل الرحمٰن کے 27 اکتوبر 2019 کو ممکنہ لانگ مارچ کا جائزہ لیں تو ایک مماثلت دکھائی دےگی کہ عمران خان کی حکومت کو آئے ابھی 14 ماہ ہوئے ہیں اور مولانا سو فیصد انہی مطالبات کے ساتھ اسلام آباد میں لانگ مارچ کرنا چاہ رہے ہیں جو مطالبات عمران خان کے تھے.
وہ بھی الیکشن کی دھاندلی کا رونا رو رہے تھے یہ بھی الیکشن کی دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں, وہ بھی الیکشن ریفارمز کے بجائے وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے, یہ بھی صرف استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں.
جس طرح عمران خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ نواز شریف سے اپنا ذاتی حساب کتاب برابر کرنا چاہتے ہیں اسی طرح مولانا کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا کہ وہ صرف الیکشن میں ہارنے کا حساب کتاب برابر کرنے کے لیے اسلام آباد لانگ مارچ لانا چاہتے ہیں.
سنائی تو یہ بھی دے رہا ہے کہ مولانا کی طاقتور قوتوں سے ملاقات ہوئی تو مولانا نے کہا کہ عمران خان کو ہٹا کر کسی اور کو وزیر اعظم بنا دیں اور پھر حکومت اپنی اپنی مدت پوری کرلے.
اس وقت عمران خان اور اب مولانا فضل الرحمٰن, دونوں اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے کر رہے ہیں.
ماریو پیوزو کے ناول گاڈ فادر کا ایک مشہور ڈائلاگ ہے کہ,
"Nothing Personal, Its Just Business”
لیکن یہاں صورتحال اس کہ بلکل بر عکس ہے کہ:
"Nothing Business, Its Just Personal”.               

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us