ایک اور بچپن اجڑ گیا!

مدرسہ یا اسکول بچوں کی تعلیم کے لحاظ سے پہلی آما جگاہ سمجھا جاتا ہے اور اگر تدریسی وعمل کی پہلی سیڑھی میں ہی جھول آجائے تو بھروسہ کس پر کیا جائے۔

اس پر متضاد یہ کہ ملزم جرم کرے، اس کا اعتراف کرے، اور اس پر ڈٹا رہے شرم ناک ہے۔

مدرسوں میں ایسے کیسز تسلسل سے سامنے آرہے ہیں کہ جن میں یا تو بچوں پر تشدد کیا جا رہا ہے، ان کو الٹا لٹکا یا جا رہا ہے ، چھڑیوں سے مارا جا رہا ہے یا بد

مدرسے میں بچے کو بدفعلی کا نشانہ بنانے والے ملزم ذیشان کی دیدہ دلیری، درخواست ضمانت بعد از گرفتاری اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادی جو بدیر مسترد کر دی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مدرسے میں بچےکو بدفعلی کا نشانہ بنانے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بچے کے ساتھ یہ معاملہ وہاں ہوا جہاں قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے، بچے کو مدرسے کے قاری کی حفاظت میں دیا گیا تھا اور حفاظت کرنا اس پر لازم تھا ۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات ہمارے معاشرے میں زیادہ ہو رہے ہیں، پولیس تفتیش کا کوئی حال نہیں جبکہ ریاست بھی ایسے واقعات کی پروا نہیں کر رہی ہے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ جو معاشرہ بچوں کا تحفظ نہ کرسکے اس معاشرے کا کیا ہو گا ؟ بچے کے ساتھ غیر فطری واقعہ ہوا، تفتیشی افسر کو کچھ پتہ ہی نہیں، ایف آئی آر کے مطابق بچے کے والدین نے قاری کو بتایا لیکن اس نے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us