آٹے کے نرخ نہ مقرر ہوسکے،فلورملوں کو لوٹ مار کی کھلی چھوٹ!

کراچی میں فلور ملز مالکان دونوں ہاتھوں سے شہریوں کو لوٹنے لگے،زیادہ میدہ نکالنے والے فلور ملز مالکان آٹے کے سرکاری نرخ طے کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔سرکاری گندم کے اجرا کو 3 ہفتے کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود تاحال ابھی تک آٹے کے نرخ طے نہیں ہوئے ہیں،جبکہ اس مدت کے دوران اوپن مارکیٹ میں بھی فی سو کلو گرام گندم کےنرخوں میں 400 روپےکمی کے باوجود آٹا مافیہ نے ایکس ملز کے نرخے کم نہیں کیے ہیں۔رواں سال سیزن میں جو گندم جاری کرنی ہے اس میں سے کراچی لانڈھی کے گوداموں میں گندم کے زخائر 15 سے 20 فیصد ہیں۔یہ نوبت اس لیے آئی ہے کہ محکمہ خوراک کمیشن مافیہ نے اپنی خرد برد کو چھپانے کے لیے گندم کے ذخائر کا وزن بڑھانے کے لیے مٹی ملائی جارہی ہے محکمہ خوراک کو اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے لیکن بد قسمتی کے ساتھ کمیشن مافیہ کے سرغنہ اس معاملے میں ملوث ہونے کے باعث اس پر کوئی نہیں سوچ رہا یعنی اس میں اپنے ہی بندے اس کالے دھندے میں ملوث ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us