آرمی ایکٹ میں ترمیم: کیا حکومت نے خود اپنے پیروں پر زنجیر باندھی؟

آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل یوں تو پارلیمنٹ سے منظور ہو گیا ہے۔ اور ایسا ہی ہونے کی توقع بھی کی جارہی تھی۔ کیونکہ بلآخر ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت خواہ وہ حکومت کی ہے یا آپوزیشن کی وہ جانتی ہے کہ جو انہیں اقتدار میں لائے ہیں وہ اُن کے خلاف نہیں جا سکتی۔

پی ٹی آئی حکومت نے اگست میں ہی آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے بارے میں نوٹیفیکیشن جاری کردیا تھا جب اس کی نہ تو کوئی ضرورت تھی اور نہ ہی جواز۔

اور دوسری جانب اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنا مہینوں سے چلے آنے والا موقف ایک ہی جھونکے میں چوہلے میں پھنک دیا، جس کے بارے میں ووٹر ابھی تک یہی سوال کررہے ہیں کہ نعرہ بوٹ کو عزت دہ لگانا تھا یا ووٹ کو عزت دو؟

پاکستان پیپیلز پارٹی اس بات کو گلے سے لگا بیٹھی ہے کہ اپوزیشن کا فیصلہ سنانے سے پہلے ان سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی نہ ہی اُن کی پیش کردہ تجاویز پر اسمبلی میں بحث ہوئی۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر آزاد اراکین نے ترامیم کے خلاف اسمبلی سے ہی واک آوٹ کردیا تھا۔

لیکن یہ صرف عبوری صورتحال ہے۔ اس بار اسٹیبلشمنٹ نے ایسی چال چلی ہے کہ حکومت، آپوزیشن، عدالت عظمٰی، پارلیمنٹ تمام اداروں کے بیچ میں بدگمانیاں اور انتشار پھیلا کر اپنا شکنجہ مزید مضبوط کردیا ہے۔

پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کی تلوار ہر وقت ہر حکومت پر لٹکی رہی ہے اور اسی طرح ایکسٹنشن کا معاملہ بھی کسی ایک شخص کو ایک حکومت وقت سے بھی زیادہ عرصہ پوزیشن میں بیٹھایا جاتا ہے جو ملک کے دیگر اداروں پر اپنا کنٹرول آزماتا ہے۔

سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد حکومت کے پاس تاریخ کو موڑنے کا ایک سنہری موقع تھا، جسے اُس نے گنوا دیا۔ اگر آپوزیشن یہاں یکجہتی کا معاملہ اپناتی تو چیرمین سینٹ صادق سنجرانی والا واقعہ شاید دوبارہ اسمبلی میں پیش نہیں آتا۔ پارلمنٹ کا تقدس بھی بحال رہتا اور ووٹ کو عزت بھی ملتی۔ لیکن اب حکومت، سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ سب نے خود ہی اپنے پیروں میں زنجیریں باندھ کر تالے کی چابی اسٹیلبلشمنٹ کو دے دی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us