اندرون سندھ میں آسمانی آفات

 

ضلع تھر پارکر میں شروع ہونے والا ہلکی بارش کا سلسلہ جمعرات کے روز بھی وقفے وقفے سے گرج چمک کیساتھ جاری رہا جس کے نتیجے میں ۲۱ افراد ہلاک اور ۷ زخمی ہوئے جبکہ ۴۵ سے زائد مویشی بھی موت کے گھاٹ اتر گئے۔ بارشوں کے اس نئے سلسلے کے پیشِ نظر سردی کی شدت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مٹھی اور سانگھڑ میں بھی بجلی گرنے کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت ۲۵ افراد ہلاک اور ۱۰ زخمی ہو گئے۔ گائوں موڑاسیو میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں افراد جھلس کر شدید زخمی ہوئے جن کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔

مسلسل اور شدید بارشوں کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، بارشوں کی وجہ سے تھر میں کاشت  کی گئ گوار اور باجرے کی فصل کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے اور مقامیوں کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو فصلوں کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔

قدرتی آفات میں ہونے والے ضیاع کے باعث ڈپٹی کمشنر تھر پارکر نے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی ہے اور

ہسپتال عملے اور ڈاکٹروں کی چھٹیاں معطل کر دی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پچھلے دو روز میں مٹھی میں ۲۹ ملی لیٹر، ننگر پارکر میں ۲۷ ملی لیٹر، ڈیپلو میں ۲۰ اور ڈاہی میں ۱۴ ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us