امریکہ اور اس کا جنگی جنون: دنیا کے امن کے لیے خطرہ!

ایران اور امریکہ کے درمیان خطے کی کشیدگی کوئی دھکا چپھا عمل نہیں، بلکہ ایک عالمی تنازع کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دونوں ممالک میں چلی آنے والی کشیدگی، رضا شاہ پہلوی کے دور سے قبل کی ہے، جب امریکہ ایراق، ایران، افغانستان اور پھر پاکستان میں جمہوری عمل کو گرانے اور ان ملکوں میں اپنے پسندیدہ آمروں کو بتدریج لاتا رہا۔ ملکوں میں ‘انقالاب پسند’ نوجوانوں کے جزبات کو مجروع کیا جاتا رہا اور بلآخر ایک ایسی نسل پیدا کی گئی جو اپنے ملک، اس کے نظام سے عاری اور امریکہ سے دل سے نفرت کرتی تھی۔ لیکن یہ تو ہو گیا ماضی کا احوال۔

ہر ملک کی طرح، امریکہ کی خارجی اور دفاعی پالیسی کا اختیار بھی پینٹاگون اور تھنک-ٹینکس کے ہاتھوں میں ہے، جو اس وقت ہی آگے آنے والے سو سالوں کی پالیسی تیار کیے رکھے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ریگن کے بعد سے صدر ٹرمپ تک بدلتے رہے اور ہر آنے والے صدر نے ایران، ایراق، افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی اپنائی۔

ایراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹانے میں جہاں بل کلنٹن نے اہم کردار ادا کیا، وہیں افغانستان میں افغان جہاد کا نعقاد جورج بش کے زمانے میں ہوا۔ صدر باراک اوباما کو ووٹ لینے، اور ایک اور مرتبا اقتدار میں رہنے کے لیے لیبیا کے صدر معمر گزافی کو اقتدار سے گرانے کے لیے اہم کرادر ادا کیا۔ تو ایسے میں کیوں کر ٹرمپ کسی سے پیچھے رہ سکتے ہیں؟ ایک بار پھر اقتدار میں رہنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو کچھ ایسا کرنا تھا کہ امریکہ کا خطے پر کنٹرول رہے۔

پر بات یہاں محض خطے پر کنٹرول کی نہیں ہے۔ ہر بار ایسے کسی بھی واقعے کے بعد امریکی صدر اس بات سے تلافی کر کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ، ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس فلانے عمل کے یہ نتائج ہوں گے۔۔۔ یا نتائج ہماری پیشن گوئی کے برعکس نکلے۔

پر یہاں یہ بات بھی جاننا ضروری ہے، کہ جنگیں اور اس طرح کے اقدامات جو جنگ کو اکسائیں اس کے پیچھے ملکوں کی درینہ پالیسیاں اور ان کے اپنے ملک میں بھت سے لابی گروپ ہوتے ہیں جو اس عمل کے لیے اکساتے ہیں اور جنگی جنون کو ہوا دیتے ہیں۔

امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار بنانے اور بیچھنے والا ملک ہے۔ دفاعی ہتھیار بنانے اور ایکسپورٹ کرنے والوں کے امریکی سینٹ میں بہت مضبوط جڑیں ہیں۔ یہ لابی گروپ کئی اہم فیصلوں کے پیچھے مدثر ہوتے ہیں جن کو ٹالنا کسی صدر کے بس میں نہیں ہوسکتا۔

ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور یورپی ممالک دنیا کا ۸۲ فیصد اسلحہ خریدنے کے ذمہ دار ہیں۔ تو جہاں اتنا اسلحہ بنایا، بیچا اور خریدا جاتا ہے، اُس کو کہیں استعمال میں لائے بغیر یہ کیسے پُر امن رہ سکتے ہیں؟

امریکہ کا خطے میں امن کو تباہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے، کہ جنگیں اب سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ جنگوں کے ملک وہی ہیں لیکن میدان بدل چکے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی یہ ترقی، کہ وہ اپنی پراکسی جنگوں کے لیے تیسرے ممالک کی حدود استعمال کرتے ہیں۔ اور اکثر ایسا کرنے میں مذبی رجحانات کو بروکار لایا جاتا ہے تاکہ جنگ کے ماحول کو ہوا لگتی رہے۔ اور اس کی مثال شام کے موجودہ حالات سے بخوبی لگائی جاسکتی ہے جہاں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب ایک طرف اور ترکی، رشیاء، ایران ایک طرف ہیں۔ ایک کا بہانہ صدر بشر ال اسد کو اقتدار میں رکھنا ہے اور دوسرے کا اُسے نیچے کرنے کا۔

امریکہ کی اس خطے میں مداخلت افغانستان، شام، لیبیا، دمشق، ایراق جیسی صورتحال پیدا کرچکی ہے۔ طالبان اور داعش جیسے دہشتگرد اتنے پیدا ہوگئے ہیں کہ یہ ناصور ابھی ختم ہونے کا امکان نظر نہیں آہ رہا۔ امریکہ نہ تو افغان میں امن کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے نہ عراق سے فوج نکالنے کے لیے رضامند ہورہا ہے۔

ایران سے نیوکلئیر ڈیل کے تو صدر ٹرمپ پہلے ہی روادار نہیں تھے اور اب جنگ چھیڑنے کے لیے یہ نیا حربہ۔ ایسے میں ایران کو دور اندیشی سے کام لینا ہوگا، جو اس وقت پورے خطے اور دنیا کے امن کے لیے بہتر ہو، "War anywhere, is War everywhere”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us