اظہارِ تشکر…!

تحریر: اشفاق احمد:

میاں محمد نواز شریف کو خراب صحت کی بنا پر کوٹ لکھپت جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں انکا علاج ہوسکے. اُسی دوران انکی درخواستِ ضمانت (میڈیکل گراؤنڈز پر) بھی دائر کی گئی تھی اور اس درخواست کا فیصلہ میاں محمد نواز شریف کے حق میں آیا اور انہیں آٹھ ہفتوں کا عدالت سے ریلیف ملا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں. عدالتی فیصلے کے بعد میاں صاحب کو عدالت سے انکے گھر جاتی عمرہ میں منتقل کیا گیا اور وہیں آئی سی یو تشکیل دے کر میاں صاحب کا علاج معالجہ جاری و ساری تھا, وہیں ن لیگ ان کوششوں میں مشغول تھی کہ میاں صاحب کا علاج لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک سے کروانے کی کوئی راہ ہموار ہوسکے.
عدالتی فیصلے تو میاں صاحب کے حق میں آ چکے تھے لیکن کیونکہ میاں نواز شریف ایک مجرم ہیں تو ایک مجرم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی, اس لئے میاں صاحب کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں تھا اور اس لسٹ سے نام نکالنا ایگزیکٹو کا دائرہ اختیار میں آتا ہے.
اس لیے پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ن لیگ کے درمیان ایک کشمکش کی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب حکومت کے چند وزراء نے انسانی ہمدردی کی بنا پر بھی میاں صاحب کے لندن سے علاج کرانے کی مخالفت سامنے آئی اور یہ شرط پیش کی گئی کہ اگر شریف فیملی سات ارب روپے ضمانت کے طور پر دے دیں تو وہ باہر سے علاج کروا سکتے ہیں.
ن لیگ نے حکومت کی اس ضمانت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ہم حکومت کو سات ارب تو کیا سات سو روپے بھی نہیں دینگے اس کے بعد یہ معاملہ کھٹائی میں پڑتا دیکھائی دینے لگا, اور مسلم لیگ ن نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور شہباز شریف نے جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور اگلے روز یعنی ہفتہ کو اسکی سماعت مقرر کردی گئی.
ہفتہ کے روز تین سے چار وقفوں کے بعد اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے حکومت کو آرڈر جاری کیے کہ میاں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹا کر انہیں بیرونِ ملک علاج کرانے کی اجازت دی جائے.
اس فیصلے کے بہت سے پہلو ہیں اور ان پے بات بھی ہوسکتی ہے, اس فیصلے سے اتفاق اور اختلاف بھی ہوسکتا ہے لیکن
تاریخ اور سیاست کے اک ادنیٰ سے طالب علم کی حیثیت سے میں اس فیصلہ کو اک اچھا فیصلہ سمجھتا ہوں.
اگر آج کی عدالتیں اور حکومت بھٹو صاحب کے طرح میاں صاحب کی زندگی کا چراغ بھی کسی کال کوٹھڑی میں گل کرنے کی سازش میں رتی برابر بھی پائے جاتے تو یقین کیجیے آنے والے سو سالوں تک ہم زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کی طرح "زندہ ہے میاں صاحب زندہ ہے” کہ نعرہ لگاتے پائے جاتے, اسکی پارٹی کو اقتدار میں لا لاکر اس کا قرض اتارتے اور یوں ہماری تین چار نسلوں نے برباد ہوجانا تھا.
اور پھر سندھ کی طرح پنجاب کی سیاست کا رخ بھی وہی موروثی اور بدبودار ہوجاتا جو کہ سندھ کا ہے.
اب آپ اس کو ان اداروں کی مجبوری کہیں, مصلحت کہیں, انسانی ہمدردی کہیں یا عقلمندی گردانیں لیکن یہ بات تو طے ہے کہ ہمارے ادارے زیادہ نا صحیح کچھ بلوغت کی طرف بڑھنے لگے ہیں.
اس لیے ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہیے ان قوتوں کا, ان اداروں کا جنہوں نے ہمیں مردہ پرست سیاست سے بچالیا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us