اسلام خطرے میں؟

امام کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کی عزت کرنا انتہائی ثواب کا کام ہے،پاکستان میں اسلامی معاشرے میں اس بات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے،لیکن بد قسمتی کے ساتھ سرگودھا میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا،سرگودھا کی تحصیل ساہیوال کے علاقے رتھانہ میں 45 سالہ سالہ نابینا امام مسجد ممتاز اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور آرام فرما رہے تھے کہ اچانک ہی ایسے حالات پیدا ہو گئے جس کاسامنا نابینا امام ممتاز نہ کر پائے ،ممتاز جب اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہوئے تھے کچھ لوگ ان کے گھر میں داخل ہوئے ممتاز کو کچھ عجیب سی آواز سنائی دی جس پر ممتاز نے پوچھا کون ہے لیکن آگے سے کوئی جواب نہیں آیا کچھ ہی دیر میں ممتاز کے سر پر نا معلوم افراد نے حملہ کیا جس سے وہ زمین پر گر گئےاور ان کے سر سے خون بہنے لگا اس کے بعد وہ دوبارہ اٹھے تو نا معلوم شخض نے ان پر چھریوں سے حملہ کیا ممتاز نے شور مچایا لیکن  ان کی آواز کسی نے نہ سنی کیونکہ کہ وہ اس وقت اکیلے مسجد کے ایک کمرے میں موجود آرام کر رہے تھے ممتاز کے جسم سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا حملہ آور فرار ہو گیا کچھ ہی دیر کے بعد ان کے عزیز ملنے آئے تو دیکھا کہ سامنے ان کی لاش پڑی ہے انہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ساہیوال لایا گیا جہاں پر تشویشناک صورتحال کے پیش نظر انہیں ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا ریفر کردیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے، پولیس تھانہ ساہیوال نے مقتول حافظ ممتاز کی نعش ضروری کارروائی کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردی ہے جبکہ نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے، مقتول حافظ ممتاز ایک شریف النفس انسان تھا اور 4 بچوں کا باپ تھا، مقتول کی پہلی بیوی نے کچھ عرصہ پہلے اس سے خلع لے لی تھی جبکہ پہلی بیوی سے مقتول کی ایک بیٹی تھی جو شادی شدہ ہے جس کے بعد مقتول نے دوسری شادی کی تھی پولیس تمام پہلوؤں پر تفتیش کررہی ہے،اس ظالم معاشرے میں رہنے والے ظالم انسانوں نے نابینا امام مسجد کو قتل کر دیا آخر اس کا گناہ کیا تھا کہ یہ لوگوں کو بھلائی کی طرف دعوت دیتا تھا

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us