آؤ مل کر پیپلز پارٹی کو ختم کریں..!!

تحریر: اشفاق احمد
پیپلز پارٹی جو کسی زمانے میں وفاق کی علامت سمجھی جاتی تھی, اور اسکا ایک نعرہ بہت مشہور تھا جو اسی بات کی عکاسی کرتا تھا کہ یہ جماعت صحیح معنوں میں وفاق کی علامت اور وفاق کی ضامن ہے اور وہ نعرہ تھا "چاروں صوبوں کی زنجیر, بینظیر بینظیر”.
پھر ہوا یوں کہ 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات جیت کر وفاق کی جماعت بن کر سامنے آئی اور وہ وفاق, بلوچستان اور سندھ میں حکومتیں بنانے میں کامیاب ہو گئی جبکہ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی, لیکن بد قسمتی سے پی پی پی کے اس دورِ حکومت میں بیڈ گورننس اور بد عنوانی کے بہت سے ریکارڈ قائم ہوئے. سندھ حکومت کی کارکردگی کی بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے, کیونکہ سندھ حکومت ریہرسل موڈ پر تھی اور حکومت کرنے کی ریہرسل کر رہی تھی, نتیجہ 2013 کے انتخابات میں پی پی پی صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی.
سندھ کی عوام نے اس جماعت کو مسلسل تین مرتبہ سندھ میں اکثریت دے کر صوبے میں حکومت بنانے کا حق دیتی رہی ہے. یہاں ایک بات یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی 2008 سے 2013 تک کی بُری کارکردگی کے باوجود 2013 کے انتخابات میں 2008 کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کی اسی طرح 2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے 2013 کے مقابلے میں اور زیادہ نشستيں حاصل کی.
اب سوال یہ ہے کہ ایک جماعت جس کی کارکردگی بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے جس کی ڈلیوری وہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے اس جماعت کے پاس ایسی کونسی گیدڑ سِنگی ہے کہ وہ جماعت ایک صوبے میں پچھلے الیکشن سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے محکمہ زراعت اور اس سے متصل قوتوں کو حیرت زدہ کر دیتی ہے, کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ,

وہ آئینہ کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے,
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے.

یہ جماعت اتنی بُری کارکردگی کے بعد پچھلے نتائج سے بہتر نتائج دے کر سب کو حیرت زدہ کرتی رہی ہے.
آئیں مل کر سوچیں کہ اس پارٹی سے کیسے جان بخشی کروائی جائے؟
اس ناچیز کا یہ ماننا ہے کہ اس جماعت کو طاقتور کرنے میں اور اس ملک کی نادیدہ قوتوں کا بہت اہم کردار ہے, کیونکہ وہ قوتیں روزِ اول سے اس جماعت کے خلاف رہی ہیں اور اس جماعت کا یہ خاصا رہا ہے کہ یہ جب جب اسے دبانے, اسے ختم کرنے کی کوششيں کی گئی ہیں یہ جماعت اتنی ہی طاقتور بن کر سانے آئی.
اس جماعت کی مثال اُس "پلّا مچھلی” کی طرح ہے جو ہمیشہ دریا کے مخالف سمت میں چلتی ہے.
ایک اور بات سندھ کے لوگوں کے بارے میں یہ بھی کی جاتی ہے کہ یہ لوگ, امیروں, پیروں, وڈیروں, سرداروں, اور جاگیرداروں کے نرگے میں ہیں تو لحاظہ یہ ہمیشہ ووٹ انکی مرضی سے ہی دیتے ہیں اس لیے سندھ سے پیپلز پارٹی ہی جیت سکتی ہے, لیکن میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا وہ اس لیے کے سندھ کی لوگ اور خصوصاََ نوجوان نسل ان امیروں, پیروں, وڈیروں, سرداروں اور جاگیرداروں سے سندھ کو نجات دلانے کے لیے ان سے مسلسل لڑتے چلے آ رہے ہیں اور اسکی مثال آپ 2018 کے انتخابات کی ویڈیوز اٹھا کر دیکھ لیں کس طرح ان لوگوں کو سخت سے سخت سوالات اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا.
لیکن یہ ذکر کردہ قوتیں( سردار, وڈیرے اور جاگیردار) دوسرے درجے کی ہیں, جب پہلے درجے کی قوت (محکمہ زراعت) سندھ کے لوگوں پر مسلط کی جاتی ہے یا وہ اپنی مرضی کے نتائج چاہتی ہے تو یہ لوگ دوسرے درجے کی قوتوں کو اپنا دشمن یا مخالف نہیں سمجھتے بلکہ انکا ساتھ دینے کو تیار ہوتے ہیں.
اگر آپ چاہتے ہیں کہ سندھ سے پیپلز پارٹی کا متبادل لایا جائے جو ایک پڑھا لکھا با شعور نوجوان ہو تو پھر اس نا چیز کی ایک بات پر عمل کر کے دیکھ لیں پیپلز پارٹی کو "اینٹی اسٹیبلشمنٹ” کے بجائے اسے "پرو اسٹیبلشمنٹ” پارٹی کے طور پر ٹریٹ کریں آپ دیکھیں گے کہ نہ صرف سندھ سے نئی باصلاحیت قیادت ابھر کر سامنے آئے گی بلکہ سندھ سے فرسودہ وڈیرانہ اور جاگیردارنہ نظام کا خاتمہ بھی ہو جائے گا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us