کیا اسکول انتظامیہ پراپرٹی کا کام کررہے ہیں؟

عدالت کا اسکول انتظامیہ کو مختلف پرگرامز کے نام پر فیس وصولی سے رکنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ کا نجی اسکول انتظامیہ کو بچوں سے زائد فیس وصول کرنے سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق ہل پارک کے قریب واقع نجی اسکول انتظامیہ ٹیوشن فیس 38500 ،اسپورٹس کے نام پر 750 اور فوٹو کاپی کے نام پر 600 روپے وصول کررہی ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ کیا کوئی ان اسکول والوں سے پوچھنے والا نہیں ہے؟ یہ لوگ اسکول چلا رہے ہیں یا کوئی پراپرٹی کا کام کرتے ہیں؟

واضح رہے کہ یہ ریمارکس سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بچوں سے زائد فیس وصول کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

دوران سماعت عدالت نے ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز سے نجی تعلیمی اداروں کے رولز بتانے کے لیے کہا جس پر وہ عدالت کو کچھ نہ بتاسکے۔ جس کے جواب میں عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکول ایجوکیشن کیا کررہے ہیں؟ آپ کو اپنے بنائے گئے رولز ہی معلوم نہیں ہیں۔

لہذاعدالت نے ڈائریکٹر جنرل پرائیوٹ اسکولزمنسوب صدیقی سے کہا بتائیں کیا یہ اسکول ٹھیک کررہا ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ تمام چارجز غیر قانونی ہیں،اگر یہ نئی فیس منظوری کے لئے درخواست دیں گے تو سال میں صرف پانچ فیصد فیس بڑھ سکتی ہے۔

جس پرعدالت نے اسکول انتظامیہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے حکم کو چیلنج کر رہے ہیں؟،پرائیوٹ اسکول والوں نے تو تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے؟،جبکہ والدین آپ کے پاس داخلہ کروا کر پھنس گئے ہیں،ختم کرو، بند کرو ایسے تمام اسکولز کو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us