ٹرانسپورٹ مافیا بے لگام

واٹر پمپ سے جامع کلاتھ تک کے ایک بس والا 30 روپے لیتا ہے تو دوسرا بس والا 25 روپے اور کوئی تو 35 روپے تک لینے پر بضد نظر آتا ہے۔ یہ حال صرف ایک بس کا نہیں بلکہ پورے پبلک ٹرانسپورٹ میں اپنا ہی قانون چل رہا ہے۔

اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اصغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عوامی ٹرانسپورٹ میں من مانے کرایوں سے متعلق درخواست پر محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو فوری طور پر قانون کے مطابق کرائے طے کرنے کا حکم دے دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ شہر میں ٹرانسپورٹ مافیا بے لگام ہوچکی ہے۔ 2015 کے بعد سے کرایوں کا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے مگر کرایوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ اور اپنی مرضی کے مطابق کرائے بڑھا لیے گئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسر نے بتایا کہ کرایوں کو طے کرنے کے لیے کمیٹی بنادی گئی ہے۔ جلد ہی فیصلہ کرلیا جائے گا۔ ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے جمع کرائے جانے والے جواب پر ڈی آئی جی کے دستط ہی موجود نہیں تھے جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اتنا معلوم نہیں کہ تحریری جواب پر دستخط ہونا ضروری ہوتا ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ آئی جی سندھ کو خط کھ کر بتائیں کہ کس طرح رپوٹس پیش کی جارہی ہیں۔ عدالت کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ٹرانسپورٹ مافیا کو بے لگام کس نے چھوڑ رکھا ہے۔ کیا محکمہ ٹرانسپورٹ کو کرایوں کا کوئی طریقہ کار موجود ہے۔ عدالت نے محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو فوری طور پر قانون کے مطابق کرائے طے کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اگر محکمہ ٹرانسپورٹ نے کرایوں کو طے نہ کیا تو توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us