سندھ بینک میں خطرے کی گھنٹی

سندھ بینک کا اہم عہدیداران کی گرفتاریوں کے بعد اپنے صارفین کا اعتماد بحال رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں رواں ماہ نیب راولپنڈی اور کراچی نے مشترکہ کارروائی کرکے سندھ بینک کے تین اہم عہدیداروں کو گرفتار کرلیا۔ جن میں سندھ بینک کے صدر طارق احسن، ایگزیکٹو نائب صدر سید ندیم الطاف، سابق صدر اور موجودہ ڈائریکٹر بلال شیخ شامل ہیں۔

2010 میں سندھ بینک کا حصہ بننے والے طارق احسن 2016 میں بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مقررکردیے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد پر حسین لوائی اور انورمجید  جیسے دیگر بڑے ملزموں کو تقریبا  8۔1  ارب کے جعلی قرضے جاری کرنے اور اختیارات کا غلط استعمال جیسے الزامات ہیں۔  نیب ذرائع کے مطابق صرف بلال شیخ نے اومنی گروپ کی بے نامی کمپنیوں کو جعلسازی کے ذریعے سندھ بینک سے 1 ارب روپے کا قرض دیا تھا۔

اسی سلسلے میں جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمات میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق بینک اکاونٹس میں 200 سے زائد کمپنیاں اور 300 سے زائد لوگ ملوث تھے۔  جنہوں نے اربوں روپے کا کالا دھن سفید کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us