خوشی اور غم کا وہ لمحہ!

رمضان کا مہینہ جو ہر مسلمان کے لیے بے انتہا خوشی کا مہینہ ہوتا ہے، میرے اور میرے شوہر کے لیے یاد گار بھی بن گیا کیونکہ رمضان کی پہلی تاریخ کو مجھے معلوم ہوا کہ میں امید سے ہوں۔ ہم دونوں بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس نے ہمیں ماں باپ بننے کی خوشی ںصیب کی۔

کچھ دن بعد جب میں ڈاکٹر کے پاس گئی تو معلوم ہوا کہ حمل ضائع ہوچکا ہے اب میرے جسم میں اس خوشخبری کے کچھ باقیات موجود ہیں جو اگر کچھ دیر اور نہ نکالے گئے تو میری زندگی کو خطرہ ہے۔ لہذا میرا آپریشن کیا گیا۔

یہ ہم دونوں پر کٹھن وقت تھا۔ ہم دونوں خاموش تھے۔ میری آنکھیں تو برس پڑی تھیں لیکن وہ ضبط کیے میرا ہاتھ پکڑے پاس ہی کھڑے تھے۔ مجھے دلاسہ دے رہے تھے کہ اللہ کی یہی رضا ہے۔

کچھ ماہ بعد اللہ نے ہمیں ایک بار پھر خوشخبری سے نوازا۔ سب ٹھیک تھا مگر پھر چھ ماہ حمل ٹہرنے کے بعد اچانک میری طبیعت خراب ہوئی اور پھر سب کچھ ختم ہوگیا۔ میں بلکل امید چھوڑ چکی تھی۔ دو بار ایک ننہی جان میرے وجود کا حصہ بنی اور پھر مجھ سے جدا ہوگئی۔ میں ڈپریشن میں چلی گئی مگر میرے شوہر نے مجھے سنبھالا۔ وہ ہمیشہ مجھے سورۃ نشرح کی آیت کا ترجمہ سناتے جس کا مفہوم ہے ” ہرمشکل کے ساتھ آسانی ہے” ۔ وہ ہمیشہ کہتے تم پریشان نہ ہو اللہ ہمیں اولاد کی نعمت سے ضرور نوازے گا اس سے امید رکھو۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔

صحیح کہتے ہیں اگر آپ کسی مشکل وقت سے گزر رہے ہوں اور آپ کے آس پاس ایسے لوگ موجود ہوں جو آپ کی ڈھارس بندھائیں، آپکی سوچ کو مثبت رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں تو واقعی وہ وقت صبر کے ساتھ گزارنا آسان ہوجا تا ہے۔ میری زندگی میں یہ کردار میرے شوہر نے ادا کیا۔ انکا اس مشکل وقت میں مجھے سورۃ نشرح کی آیت کا ترجمہ سنانا میرے دل کو سکون کی کیفیت میں لے جاتا تھا کیونکہ اس آیت کو سن کر مجھے یہ بارآور ہوتا کہ میں اکیلی نہیں ہوں، مجھے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا میرا خالق و مالک میرے ساتھ ہے۔

انکی ان باتوں سے اگلے ہی لمحے میرے دل و دماغ کی کیفیت یکسر بدل جاتی تھی۔

اس دن کے بعد سے میں اللہ سے ہر وقت دعا مانگتی رہتی۔ پھر ایک دن اچانک مجھے تیسری بار ماں بننے کی خوشخبری ملی۔ یہ خبر سن کر ہم دونوں خوفزدہ تھے کہ کیا اس بار ہم اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے چھو سکیں گے؟ کیا ہمارا بچہ صحیح سلامت ہمارے ہاتھوں میں آسکے گا؟

ہم دونوں ڈر کی کیفیت میں بیٹھے یہ سوچ ہی رہے تھے کہ میری ساس نے آکر ہم دونوں سے کہا بیٹا تم دونوں فورا شکرانے کے نفل پڑھو۔ دونوں ساتھ مل کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر گڑ گڑاکر دعا مانگو۔ انشاءاللہ! بے شک اللہ بہتر کرنے والا ہے۔

انہوں نے ہمیں کہا بیٹا اس خبر کو پوشیدہ رکھنا۔ اللہ کے رسول نے فرمایا ہے کہ خوشی کی خبر کو پوشیدہ رکھا جا سکتا ہے کیونکہ ہر خبر سننے والا دوست نہیں ہوتا (الطبرانی) حسد اور نظر بد کا انسان پر برا اثر پڑتا ہے پھر وہ تو معصوم روح ہے جو ابھی دنیا میں اپنی آمد کی تیاری میں ہوتی ہے اس کو نظر بد سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ اور بیٹا تم دونوں اللہ کا شکر کرتے رہو، اپنی اولاد کے صحت مند ہونے کی دعا کرو بے شک اللہ شکر کرنے سے نعمت میں اضافہ کرتا ہے۔  

دن گزرتے گئے ہم دونوں کا ہر دن ڈر کے ساتھ گزرتا کہ کہیں کچھ غلط نہ ہوجائے۔ دن کے خیرو عافیت سے گزرجانے پر ہم دونوں اللہ کا شکر ادا کرتے۔

شروع کے دن گزرنے کا پتہ چلا مگر وہ دن بہت تیزی سے گزرے۔

ڈھائی ماہ بعد میری اچانک طبیعت خراب ہوئی اور مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔ میں ڈر گئی تھی کہ کہیں دوبارہ مجھ سے وہ خوشی چھن جانے والی ہے۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑانا شروع کیا میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ میں دعا کر رہی تھی کہ اللہ مجھے میری اولاد سے جدا نہ کرنا میں اسے محسوس کرنا چاہتی ہوں۔

ڈاکٹر نے میرا چیک اپ کیا اور کہا مبارک ہو بچے کی ہارٹ بیٹ محسوس ہورہی ہے، سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ الفاظ سن کر میں اور میرے شوہر رونے لگے ہم دونوں ہی دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔

اس دن کے ٹھیک چھ ماہ بعد ہمارے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ تین سال کے بعد ہمیں اولاد کی نعمت ملی۔ ماشاءاللہ ہمارا بیٹا اب 3 سال کا ہوچکا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب پہلی بار ہم دونوں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لیا ہم دونوں ہی شکر کے آنسو اللہ کی بارگاہ میں نظر کررہے تھے اور پھر وہ لمحہ بھی قابل دید تھا جب میرے شوہر نے ہمارے بیٹے کے کان میں اذان دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us