زنا کے الزام میں عورت بِک گئی

پاکستان کے دیہاتوں میں جہالت عروج پر ہے۔ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں عورت کی زندگی تباہ ہوتے ہوتے بچ گئی۔ کیا اس سماج میں عورت کوئی چیز ہے جس کو جب جس کا دل چاہے بیچ دے؟ کیا وہ کوئی کھلونا ہے، جس کو بازار میں رکھ کر قیمت لگائی جائے۔ ڈیرہ غازی خان میں ایک غیر قانونی پنچایت نے ایک عورت کو کالا کالی کرکے زنا کے الزام میں بیچنے کا فیصلا کیا، اور اس عورت کی قیمت لگائی۔ یہ کالا کالی کیا ہے اور اس کا اسلامی جمہوریہ پاکستان سے آخر کیا تعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جناح اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں تماشا 

عورت کی قیمت 6 لاکھ روپے لگائی گئی اور اس کو بیچ دیا گیا۔ عورت کے بھائی نے علاقائی تھانے میں 9 افراد کے خلاف شکایت درج کرائی، جو اس معاملے میں ملوث تھے اور جنہوں نے پنچایت تشکیل دی۔ عورت کے بھائی محمد حسین نے بتایا کہ ان کی بہن کو پنچایت نے زنا کے جرم میں 6 لاکھ روپے میں بیچنے کا فیصلہ کیا جب کہ مبینہ لڑکے پر 18 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

اس قسم کے واقعات پاکستان میں ایک طویل عرصے سے پیش آرہے ہیں۔ یہ کالا کالی کیا ہے اور اس کا اسلامی جمہوریہ پاکستان سے آخر کیا تعلق ہے؟ اس کا نہ اسلامی شرعیت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی قانون سے۔ تو یہ جاہل لوگ جو دیہاتوں میں پنچایتیں بناتیں ہیں اور فیصلے سناتے ہیں یہ کس بنیاد پر کرتے ہیں۔ ایسے جاہل لوگوں کے لئے سخت قانون کیوں نہیں ہے؟ پولیس کیس کو درج کر لیتی ہے، اور کاروائی کرنے کا دعوہ بھی کرتی ہے پھر ان کو سزائیں کیوں نہیں دی جاتی؟  اس واقعے پر بھی پولیس نے کاروائی کرنے کی امید دلائی ہے۔ مگر سزا ہوگی یا نہیں اس کا کچھ پتا نہیں!  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us