ماند پڑتی روایتیں۔۔۔۔

کہتے ہیں یادیں اس دروازے کی طرح ہوتیں ہیں جس میں آپ کبھی بھی داخل ہوسکتے ہیں اور جب چاہیں اصل دنیا میں واپسی کا سفر طے کر سکتے ہیں، اگر انسانی وجود کے صرف اسی ایک پہلو کو لے لیا جائے اور ذرا سی سوچ بچار کی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی ہمارا وجود بہت سارے کرشموں سے بھرپور ہے اور ہر انسان ایک جیتا جاگتا معجزہ یا کرشمہ ہے۔

دو دن بعد ہمارے بیٹے کا نکاح ہے جس کی تیاری کرنے کے دوران میں نے اسٹور روم میں رکھے اپنی شادی کی چیزوں کو کئی سال بعد دیکھا۔ ان چیزوں میں میری پہلی نظر اس شیروانی پر پڑی جو ہماری بارات والے دن میرے شوہر نے پہن رکھی تھی۔ میری اور اعظم (فرضی نام) کی شادی کو پینتیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے وقت گزرا ہی نہیں بلکہ تھم گیا ہے۔

شیروانی کو دیکھ کر میں اس وقت اس لمحے میں چلی گئی جب وہ بارات لے کر ہمارے گھر آئے تھے۔ ان پر ایک نظر ڈالنے کی خواہش میں بے چین میں یہ سوچ رہی تھی کہ وہ شیروانی میں کیسے لگ رہے ہونگے۔ کیا میں ان پر نظر ڈالنے کے بعد نظر ہٹا پاؤ گی بھی یا نہیں؟

جب اعظم آئے تو میں نے گھونگھٹ میں سے جھانکنے کی کوشش کی کسی طریقے سے انہیں دیکھ لوں۔ لیکن اس وقت تو دلہن کے سر سے پیٹ تک گھونگھٹ ڈال دیا جاتا تھا اور تو اور ایسے کپڑے کا گھونگھٹ ڈالا جاتا کہ آر پار تو نظر آہی نہ سکے۔ مگر اب تو زمانہ بہت ہی بدل گیا ہے معاشرے نے واقعی ترقی کی ہے یا نہیں؟  سمجھ نہیں آتا۔

بیٹیاں جنہیں ہم ساری زندگی خود کو ڈھانپنے کا سبق پڑھاتے رہتے ہیں اور انہیں سمجھاتے رہتے ہیں کہ بیٹا اپنے سینے پر دوپٹہ ڈال کر رکھا کرو اللہ کا حکم ہے اور معاشرتی روایات بھی یہی کہتی ہیں۔ لیکن آج اسی بیٹی کو دلہن کے روپ میں سب کے سامنے نمائش کے لیے بٹھادیتے ہیں اور ہر کوئی اسے اس روپ میں دیکھ رہا ہوتا ہے جس میں اصولا سب سے پہلے اور صرف دلہا کو دیکھنا چاہیے۔ وہ بیٹی جسے ملنے جلنے والوں کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا ہوتا اور خود کو ڈھانپے بغیر تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسے رخصتی والے دن سب دیکھتے ہیں۔

اللہ بھلا کرے کچھ ڈیزائنرز کا جو بعض اوقات ایسے کپڑے ڈیزائین کردیتے ہیں جس میں کپڑوں میں آستین بھی ہوتی ہے اور دوپٹہ سینے پر ڈال کر اسے فیشن کو حصہ بنادیتے ہیں۔

ویسے تو یہ ہر ایک فرد واحد کا اپنا حق ہے کہ وہ جیسے چاہے کپڑے پہنے جیسے چاہے خوشیاں منائے اور جتنی اسکی استطاعت ہے اس حساب سے سامان زندگی بڑھائے اور زندگی کے تہواروں کو منائے مگر کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اسلام کو صرف مذہب تک محدود نہ کریں بلکہ اس نے جو ہمیں نظام زندگی دیا ہے اسے اپنی زندگی میں شامل کرسکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us