بڑھاپے کے پیچھے جرم چھپ گئے!

اور وہ نکل بھی گئے اور چلے بھی گئے، جی ہاں کوئی اور نہیں بلکہ نواز شریف! حکومت کے دعوے اور وعدے وہیں موجود ہیں عوام گھبرائے نہ اور نہ ہی پریشان ہو بس جسے بھی رہائی نہیں مل رہی وہ ایک مہنگا ڈاکٹر کرلے اور بڑی بڑی بیماریوں کے نام یاد کرلے، پھر سب مشکلات اپنے آپ حل۔

لیکن چلیں حکومت نے “بڑے” تو نہیں البتہ “چھوٹے” جرائم پیشہ افراد کے اوپر نطر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کا  فیصلہ کیا ہے، ہاں لیکن عوام کو 65 سال سے زائد عمر رسیدہ افراد اور کم سن قیدیوں کو جو معمولی نوعیت کے جرائم میں جیلوں میں قید ہیں عام معافی دینے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے ایک پینٹ بھی دی ہے۔

کیونکہ گھبرانہ نہیں ہے!

اور جہاں تک اپیل کاتعلق ہے تو حکومت کا جوازیہ ہے کہ سپریم کور ٹ یہ کئی فیصلے کرچکی ہے کہ ہم ہائی کورٹس کے عبوری آرڈر کے خلاف اپیل نہیں سنیں گے۔ اس لئے 99 اعشاریہ 9 فیصد چانس یہ تھا کہ اپیل مسترد ہوجاتی لیکن ہم ا پیل کا حق ابھی محفوظ رکھتے ہیں۔ جنوری میں جب فیصلہ آئے گا تو ہم یہ فیصلہ کریں گے یعنی حکومت۔

اس فیصلے سے 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد بشمول خواتین مستفید ہو سکیں گی وفاقی کابینہ نے نیشنل ٹیرف اور متبادل توانائی پالیسیوں کی منظوری دے دی ہےجبکہ ای سی سی اور کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے فیصلوں کی توثیق کی، بس عوام صبر رکھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us