پٹھان نے بیٹیوں کو بااختیار کیوں بنایا؟

ایک شخص نے اس پر بری نگاہ ڈالی، یہ شخص کوئی راہ چلتا آدمی نہیں تھا بلکہ وہ اس گھر کا مالک تھا جہاں وہ کام کرنے جاتی تھی۔ وہ عورت مجبور تھی، اس لیے اس نے بے آبرو کرنے والی اس نظر کو برداشت کیا، آسمان کی طرف دیکھ کر صبر کا گھونٹ بھرا اور پھر اپنے کام میں لگ گئی۔ لیکن اس کے چہرے پر اس کو درپیش خطرات کا خوف واضح تھا۔

کچھ دیر گزری پھر وہ شخص اس کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔ وہ اس آدمی کے اپنی طرف آتے قدموں کی چاپ سن کر سہم گئی تھی۔ ڈر اور خوف اس کے چہرے پر عیاں ہورہا تھا۔ مگر اس نے اپنی ساری ہمت جمع کرکے سر اٹھایا اور کہا صاحب جی! باجی نے آپکے سارے کپڑے مجھے دھونے کے لیے دے دیے تھے۔ ہاں مجھے پتہ ہے۔۔۔ اس شخص نے جواب دیا۔

اس کے بعد اس نے کپڑے دھوتے ہوئے اس خاتون کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور زور سے بھینچا اس نے جھڑک کر خود کو پیچھے کیا اور وہاں سب کچھ اسی طرح چھوڑ چھاڑ کر بھاگی۔ اس عورت کو اس آدمی سے کیسا خطرہ تھا؟ وہ کیوں بھاگی؟ یہ سب باتیں مجھے اس وقت بلکل سمجھ نہ آئیں لیکن میرا دل چاہا کہ بس میں فورا اس عورت کے پاس جاؤں، اس آدمی کا ہاتھ پکڑ کر توڑ ڈالوں۔ اس کے بعد اس عورت کے ساتھ کیا ہوا مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی یاد ہے۔۔۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ میرے ابا اپنی جگہ سے اٹھے، ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی بند کردیا۔

ٹی وی بند کرنے کے بعد ابا دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے کچھ دیر میں امی بھی کچن سے رکابیاں، سالن کا بھگونا لا کر ، دسترخوان پر آکر بیٹھ گئیں، ہم بھی امی ابا کے ساتھ کھانا کھانے دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے۔

ابا کی شروع سے عادت تھی وہ دسترخوان پر ہماری تربیت کے حوالے سے کسی نہ کسی موضوع پر ضرور بات کرتے۔ اس دن ابا نے کہا ! واقعی سچ کہتے ہیں بچیوں کو تعلیم دے کر ہم انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ برے وقت میں صرف قلم چلاکر عزت سے روزی کماسکتی ہیں۔ یہ الفاظ اپنے ابا کے منہ سے سننا بہت عجیب تھا، ایک لمحے کے لیے تو امی بھی دنگ رہ گئیں تھیں۔

ہمارا تعلق ایک مذہبی خاندان سے ہے اور ہمارے یہاں بیٹیوں کو صرف میٹرک تک ہی تعلیم دی جاتی ہے اور بعض اوقات لڑکیاں اسکول کی شکل بھی نہیں دیکھتی۔ ہمارے ابا کو ہر کوئی پٹھان کہتا تھا کیونکہ وہ بچیوں کے پڑھنے کے سخت خلاف تھے انکے مطابق لڑکی پرایا دھن ہے جسے بس بالغ ہوتے ہی اپنے گھر کا کردینا چاہیے۔ بھلا ہو پی ٹی وی کے اس ڈرامے کا جس نے انکی ذہن سازی کی۔ ڈرامے میں موجود وہ بیوہ عورت مجبور تھی نہ اس کے پاس تعلیم تھی اور نہ ہی ہنر ۔ بس اس کے ہاتھوں میں جان تھی لوگوں کے برتن مانجھنے اور گھر کے کام کرنے کی، سسرال والوں نے شوہر کی وفات کے بعد اسے گھر سے نکال باہر کیا تھا میکے والوں نے بھی منہ پھیر لیا تھا۔ اس اکیلی بے آسرا عورت کے پاس اگر اعلی تعلیم ہوتی یا فقط اتنی تعلیم ہوتی کہ وہ کسی چھوٹے سے اسکول میں ملازمت کر لیتی، بچوں کو ٹیوشن پڑھا لیتی تو وہ کئی گناہ ان بھیڑیوں کی نظروں سے بچ پاتی جو اسے کام کے لیے دوسرے گھروں پر جانے پر کھا جاتی تھیں۔

ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کل کس کے ساتھ کیا ہونا ہے؟ خاندان میں اپنے سخت رویے کی وجہ سے پٹھان کہلائے جانے والے میرے ابا آج ماشااللہ چھ پڑھی لکھی بیٹیوں کے باپ ہیں۔ انکی سب بیٹیاں اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور اپنے اپنے شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us