ججوں نے بیچا اپنا رتبہ!

دنیا میں جہاں ایک انسان کو سب سے زیادہ محفوظ تصور کرنا چاہیئے خود کو اگر وہ وہیں غیر محفوظ ہو تو سوال اٹھتا ہے اس معاشرے میں رہنے والے لوگوں پر اور ان کی ذہنی حالتوں پر!

سہون میں جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو کے ہاتھوں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی 18 سالہ سلمیٰ بروہی نے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔سلمیٰ بروہی کا کہنا ہے کہ جج نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شوہر کے پاس جانے کا یہی راستہ ہے۔شوہر اور وکیل کے ساتھ عدالت گئی تو جج نے دونوں کو کمرے سے نکال دیا۔ اگر تو اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہو تو جو میں کر رہاں ہوں اس میں میرا ساتھ دو۔کیونکہ شوہر کے پاس جانے کا صرف یہی طریقہ ہے۔ اور میں تمہیں شوہر کے ساتھ جانے کے بجائے والد کے ساتھ بھیجوں گا۔

خیال رہے کہ جوڈیشل آفیسر نے خاتون کو عدالتی چیمبر میں زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔ جام شورو ضلع سہون کے ایک جوڈیشل آفیسر کے خلاف خاتون سے زیادتی کرنے کے الزام میں کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔خاتون ایک کیس کے حوالے سےعدالت میں پیش ہوئی تھی۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق جامشورو پولیس نے 13جنوری کو سلمی بروہی اور نثار بروہی کو ایک گیسٹ ہاؤس سے گرفتار کیا تھا، جوڑے نے پسند کی شادی کی تھی۔ مرضی کی شادی کرنے کے بعد دونوں نے اپنے گھر چھوڑ دئیے تھے۔دونوں کو جوڈیشل آفیسر کے سامنے پیش کیا گیا۔سلمی بروہی نامی خاتون نے جامشور پولیس کو شکایت درج کروا دی ۔ جس میں موقف اپنایا کہ جوڈیشل آفیسر مجھ سے الگ سے بیان لینا چاہ رہے تھے۔

مذکورہ جوڈیشل آفیسر کے خلاف یہ پہلی شکایت نہیں،ماضی میں بھی وہ اس طرح کی کاروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ ڈائریکٹر سید عبداللہ شاہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر قاضی معین کا کہنا ہے وہ ملزم سے بے خبر تھے۔ تاہم پولیس کی جانب سے طبی معائنے کے لئے ایک خاتون کو اسپتال لایا تھا۔جب کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے سہیون میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی سے عدالتی چیمبر میں زیادتی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جوڈیشل سہیون امتیاز حسین بھٹو کو معطل کر دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us