موبائل فون کی سستی درآمد سے کس کا نقصان؟

ایف بی آر کی جانب سے امپورٹ ڈیوٹیوں میں کمی کے بعد موبائل فون کی درآمد 86 فیصد سستی ہوگئی ہے لیکن یہ صرف ان فونز کے لئے ہے جس کی قیمت 100 ڈالر یا اس سے کم ہے۔

ایف بی آر 28 دسمبر 2019 سے اپنے ٹیکس قوانین میں ترمیم کی ہیں، ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس 2019ء کے تحت 100 ڈالر تک کے موبائل فون سیٹ پر ڈیوٹی میں کمی کردی گئی، جو 1350 روپے سے کم ہو کر 200 فی موبائل ہوگئی ہے جو کہ پہلے 750 روپے تھی۔

ایف بی آر کے ایک عہدیدار کے مطابق اس تجویز سے مقامی مینوفیکچررز کو نقصان پہنچے گا کیونکہ مہنگے فونز پر ڈیوٹی میں کمی کے باعث مقامی مصنوعات کی فروخت متاثر ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا توقع کی جارہی ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اور ملاقات کے بعد، ٹیکسوں میں کمی پر متفقہ معاہدہ طے پا جائے گا۔

تاہم ایسے فون پر سیلز اور ود ہولڈنگ ٹیکس جن کی قیمت 100 ڈالر سے زیادہ ہے اب بھی بدستور برقرار ہے اور کسٹمز میں فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں ترمیم پائپ لائن میں ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us