کچے ذہنوں پہ پکے رنگ

تم مجھے نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ہم اپنی پروفیشنل لائف میں بھی کامیاب ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے جو تم مجھ سے شادی نہیں کرسکتے۔ حورین ( نام تبدیل کیا گیا ہے) تم صحیح کہہ رہی ہو کہ میں تمہیں پسند کرتا ہو اور مجھے بھی لگتا ہے کہ ہم لائف پارٹنر کی حیثیت سے بہت اچھی زندگی گزار سکتے ہیں لیکن میں تم سے شادی نہیں کرسکتا… بلکہ نہیں میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔ صلال (نام تبدیل کیا گیا ہے) آخر کیا وجہ ہے جو تم مجھ سے شادی نہیں کرسکتے؟ حورین میں تمہیں وجہ نہیں بتا سکتا کیونکہ اس کی وجہ میں خود نہیں جانتا۔

صلال کا جواب سن کرحورین کی زبان تو خاموش ہوگئی مگر اسکی آنکھیں ابھی بھی وہی سوال پوچھ رہی تھیں۔ دونوں کے درمیان ایک لمبی خاموشی آٹہری۔  

صلال جو حورین کی سوال کرتی ہوئی آنکھوں میں بغیر پلکیں جھپکائے دیکھ رہا تھا اچانک مڑ کر وہاں سے چلا گیا۔ وہاں سے واپس جاتے ہوئے اس کے ذہن نے اسے یادوں کی ایک ایسی دوزخ میں دھکیل دیا جہاں وہ بلکل اکیلا تھا۔ نہ ماں باپ اور نہ ہی کوئی دوست۔

تمہیں سمجھ نہیں آتا کیا؟ کتنی بار کہا ہے ڈھنگ سے کام کیا کرو۔ نہ تمہیں چلنے پھرنے کی تمیز ہے نہ بات کرنے کی۔ تم صرف میرے لیے شرمندگی کا باعث ہو۔ یہ سب کہہ کر ابو آفس کا بیگ اٹھاتے اور چلے جاتے۔

لوگوں کے گھروں میں صبح کا آغاز بہت خوبصورت ہوتا ہے اور رات کا اختتام بھی۔

ہمارے پڑوسی جبار انکل کے گھر سے کبھی چیخ و پکار کی آواز نہیں آتی تھی۔ انکا بیٹا حسن جب اسکول آتا تو مسکراتا ہوا اور میری حالت اسکے بلکل برعکس ہوتی تھی۔ ہمارے گھر میں ہر وقت امی ابو کی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ آس پڑوس کے گھروں تک میرے ابو کی گالیوں کی صاف آواز جاتی جس کو سن کر میرا دل کرتا تھا کہ بس کسی طرح یہ لڑائی ختم ہوجائے۔ اور میری امی کو ذلیل کرنے کا سلسلہ بس اب ختم ہوجائے۔ اسکول، ٹیوشن مدرسہ یہاں تک کہ پارک میں کھیلنے کے دوران بھی لوگ مجھے ایسے نظر آتے جیسے وہ مجھے بے چارگی نظر سے دیکھ رہے ہوں یا مجھ سے پوچھنا چاہ رہے ہوں کہ آج کون سی بات تمہارے ماں باپ میں لڑائی کی وجہ بنی۔ کبھی کبھی میرا دل کرتا تھا کہ میں گھر نہ جاؤں کیونکہ گھر کا مطلب تو وہ جگہ ہوتی ہے جہاں آپ کو سکون ملے لیکن مجھے تو گھر جا کر گالیاں اور اپنی ماں کی ذلت ہی سننے کو ملتی تھی۔ میرے ماں باپ نے مجھے اپنے لمس کی شاید ہی کوئی اچھی یاد دی ہو۔ جب بھی کوشش کرتا ہوں کہ بچپن کی کسی ایسی یاد کو ڈھونڈ لاؤں جس میں امی ابو اور چھوٹا سا صلال بہت خوش ہوں۔ امی ابو اسے ایک ساتھ پیار کر رہے ہوں۔ مگر افسوس میں ہمیشہ اس کوشش میں ناکام ہی لوٹا ہوں۔ شادی شاید دوسروں کے لیے خوبصورت رشتہ ہو مگر میرے لیے نہیں ہے اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس رشتہ کی جو پہلی تصویر میرے والدین نے میرے ذہن پر نقش کی وہ مجھے اس رشتے کی طرف بڑھنے اور اس رشتے میں بندھنے نہیں دے گی۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us