نوکری پانے سے نوکری جانے تک کا سفر!

گریجویشن کرنے کے بعد میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے ملازمت کی تلاش شروع کی۔ ملازمت کے بہت سے اشتہارات مجھے باآسانی نیٹ پر مل جاتے اور میں اس پر اپنی سی وی بھیج دیا کرتی تھی۔

پڑھائی مکمل ہونے کے بعد میں دو مہینے مسلسل ملازمت کے حصول کے لیے کوششیں کرتی رہی۔ پھر اچانک ایک دن مجھے ایک کمپنی سے کال آئی، انہوں نے مجھے انٹرویو کے لیے بلایا، انٹرویو کے لیے میں انکے بتائے ہوئے ایڈریس پر گئی۔ میرا انٹرویو ہوا، اس کے بعد مجھے ملازمت پر رکھ لیا گیا۔

یہ میری پروفیشنل لائف کی ابتدا تھی میں یہی سوچتی کے بس اب محنت کرنی ہے اور اپنی فیلڈ میں انشااللہ ترقی کرنی ہے۔ میں پورے دل سے اپنے کام میں مگن رہتی اور چھٹی کا وقت ہونے پر گھر کے لیے روانہ ہوجاتی۔

کچھ مہینے اسی طرح گزرے۔ پھر ایک دن میرے ساتھ کام کرنے والوں میں سے ایک شخص کا مجھے میسیج آیا۔ جس میں انہوں نے مجھ سے آفس کے کام کے علاوہ ذاتی زندگی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ میں نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ میرے خیال سے نہ وہ وقت ایسا تھا اور نہ وہ سوالات جنکا جواب دینا ضروری تھا۔

اگلے دن میں آفس گئی تو وہ میری ڈیسک پر آکر کھڑے ہوگئے اور مجھ سے مخاطب ہونے کے بعد ادھر ادھر کی باتیں کہنے لگے۔ مجھے بہت عجیب لگا میں نے کام میں مشغول رہ کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ میں ان سے کام کے علاوہ کسی قسم کی کوئی بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

اسی طرح ایک دو دن گزرے پھر آفس میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں، جس میں اس شخص کا کام کے بغیر میری ڈیسک پر کئی بار آنا، مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرنا اور مجھے کام کے دوران تکتے رہنا اس کی ان تمام حرکتوں کی وجہ سے میرے کردار پر باتیں کی جانے لگیں۔

یوں تو ملازمت پیشہ خواتین کا فون نمبر آفس میں ساتھ کام کرنے والے مرد حضرات کے پاس موجود ہونا بہت عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ مگر آفس میں موجود خواتین سے کام کے حوالے سے بات کرنے کے لیے مناسب وقت اور کام کا ارجنٹ ہونا ضروری ہے۔ ایک دن مجھے گھر پہنچنے کے بعد لگاتار اس شخص کے میسیج آنا شروع ہوئے جس میں محبت کا اظہار سمیت کئی غیر اخلاقی باتیں لکھی ہوئیں تھیں۔ یہ میری پہلی جاب تھی میں اسے نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ میں نے مختصر الفاظ میں اس شخص کو یہ بارآرور کرانے کی کوشش کی میں اس میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اگلے دن میں آفس گئی اور میں نے کمپنی کے مالک سے اس کی شکایت کی جس پر انہوں نے اس شخص کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے مجھے یہ بتانے میں مصروف رہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے تو دوستیاں کرنا اور غیر مردوں سے تعلقات بنانا ضروری ہے۔ میں انکی بات سن کر چند لمحے کے لیے ساکت ہوگئی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں کیا کروں اور کیا کہوں؟ میں فورا اٹھی اپنی ڈیسک پر گئی اور استعفی لکھا اور ایچ آر میں دے کر واپس گھر آگئی۔

کچھ لوگوں کی نظر میں شاید میرا یہ اقدام غلط ہو اور کچھ کی نظر میں صحیح۔

مگر میرے نقطہ میں عزت اور پیسوں کا کوئی مقابلہ نہیں، پیسہ آنی جانی چیز ہے میں خود کو اس جگہ پر رہ کر رسک میں نہیں ڈال سکتی تھی۔

وہاں سے ملازمت چھوڑنے کے بعد میں نے ایک بار پھر ملازمت کی تلاش شروع کردی اور کچھ ماہ بعد کئی انٹرویوز دینے کے بعد مجھے ایک اور کمپنی سے کال آئی۔ میں نے نیٹ پر اس کمپنی کے بارے میں ضروری چھان بین کی جو میرے خیال سے ہر لڑکی کو کہیں بھی انٹرویو دینے جانے سے پہلے کرنی ہی چاہیے۔
ہمارے یہاں یہ کلچر بہت عام ہے کہ اگر کسی جگہ انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے تو ہم یہ دوسروں سے چھپاتے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں اب ہر مستند کمپنی یا کوئی بھی ادارے کی معلومات نیٹ پر ضرور موجود ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی جاننے والا اس فیلڈ سے متعلق ہے تو اس سے بھی اس ادارے کمپنی کے بارے میں معلومات لینی چاہیے۔ ان سب احتیاط کے باوجود اگر پھر بھی دفتر میں غیر اخلاقی صورت حال کا سامنا ہوتو اس کے بارے میں ضرور بولیں تاکہ آپکی وجہ سے اور لڑکیاں بھی محتاط رہیں۔

آفس میں یا دوران ڈیوٹی خواتین کے اوپر جھکنا ، ناپسندیدہ جنسی حرکات، جنسی نوعیت کا لفظی یا جسمانی برتاؤ، نوکری برقرار رکھنے کے لیے تعلقات قائم کرنے کی شرط یہ ساری باتیں جنسی ہراسگی کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔

قانون اس حوالے سے کتنا فعال ہے اس کی مثالیں ہمیں ڈھونڈنے کی قطعی ضرورت نہیں۔ قانون ویسے بھی ثبوت کا محتاج ہے لہذا خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمت کے لیے یا کسی بھی وجہ سے گھر سے باہر نکلیں تو حاضر دماغی کا مظاہرہ کریں اور اس طرح کے کسی بھی واقعات کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرکے اس پر چرچا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us