گومل یونیورسٹی کے طلباء کس بات پر بضد ہیں؟

گومل یونیورسٹی کے طلباء جن مطالبات کا ذکر کر رہے ہیں وہ تمام منظور ہو چکے ہیں اور وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے فیسوں میں کمی بھی کی ہے مگر اس سب کے باوجود بھی ان کا جی پی او چوک پر دھرنا دینے واضح کرتا ہے کہ یہ طلباء شاید کسی اور مقاصد کے حصول کے لئے نکلے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی میں انہی طلباء کی 13مختلف مطالبات دو ماہ پہلے حل کر دیئے گئے تھے اور فیس کا ایک مطالبہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے 900روپے کم کرکے ایک ماہ پہلے حل کر دیا تھا۔ لیکن طلباء نے مزید 3500 کمی کا مطالبہ کر دیا جس پر وائس چانسلر نے پانچ دن پہلے ایک بار پھر منظور کر لیا۔

جب یہ مطالبات بھی منظور کر لیے گئے تو یہ 20 سے 25 طلباء اپنی بات سے ایک بار پھر مکر گئے۔ ان کے مکرنے کے باوجود بھی گومل یونیورسٹی والے گزشتہ رات ان طلباء کے پاس مذاکرات کیلئے گئے مگر ان طلباء نے مذاکرات سے انکار کر دیا اور وہ مین کیمپس سے جی پی او چوک تک ریلی نکالنے اور پھر دھرنا دینے کیلئے باضد تھے۔ جس سے واضح ہوا کہ ان طلباء کا ان مطالبات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کچھ اور مقاصد کیلئے کام کررہے ہیں۔

گومل یونیورسٹی انتظامیہ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئر اور پرووسٹ کی قیادت میں الصبح بھی ان طلباء کو ریلی اور دھرنے سے روکا اور ان سے مذاکرات کی کوشش کی مگر طلباء نے کسی بھی قسم کی بات کرنے سے انکار کرد یا اور جی پی او چوک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور اب بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور گومل یونیورسٹی انتظامیہ حکومت کے خلاف نعرے بازی میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ گومل یونیورسٹی میں 15 ہزار طلباء ہیں جبکہ کیمپ میں موجود د س سے بارہ لڑکے نہیں ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ طلباء کچھ اور مقاصد کیلئے یہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ گومل یونیورسٹی کے طلباء پر امن طلباء ہیں کیونکہ یہ طلباء دور دراز علاقوں سے پڑھائی کیلئے آئے ہوئے ہیں اور گومل یونیورسٹی میں امن چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us