زندگی تماشا یا تماشا بنی زندگی

پاکستانی ڈراموں کا سنہری دور۔۔۔ جس نے حیرت کدہ، من چلے کا سودا، ارتقا، روزی،  ڈرامہ تیراسی اور چوراسی  جیسی سیریز میں کئی ایسے موضوعات پر عمدہ ڈرامے دیے جو بے حد مشہور تو ہوئے لیکن موضوع کی حساسیت کی وجہ سے لوگوں میں مقبول نہ ہوسکے۔

پروگرام لوز ٹاک کو ہی لے لیجیے۔۔۔ اس پروگرام کو نشر ہوئے سالوں گزر گئے مگر لوگ اب جا کر اس کے ہر موضوع کو سمجھنے کے لیے تیار ہیں۔

ڈرامہ انڈسٹری کی طرح پاکستانی فلم انڈسٹری نے بھی روایتی موضوعات سے ہٹ کر ان موضوعات پر فلمیں بنائیں جنہیں معاشرے میں ایک ٹیبو سمجھا جاتا تھا کہ ان موضوعات پر تو بات ہو ہی نہیں سکتی۔

 خدا کے لیے، بول، منٹو اور مالک جیسی فلموں کو بین بھی کیا گیا، مگر عوام میں ان فلموں کو پزیرائی ملی اور ان موضوعات کی حساسیت کو سمجھا گیا۔

حکومت پاکستان نے فلم ساز سرمد کھوسٹ کی فلم ‘زندگی تماشا’ کو نمائش سے دو دن قبل روکنے کے احکامات دیے اور فلم کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رابطہ کرنے کا اعلان بھی کردیا تھا۔ یہ اسوقت ہوا جب یہ فلم پہلے ہی ملک کے تینوں سینسر بورڈز کی جانب سے پاس کی جا چکی تھی۔ حکومت پنجاب انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے فلم کی نمائش روک کر یہ معاملہ نظر ثانی کمیٹی کے سپرد کر دیا جس میں 3 فروی کو فلم کا جائزہ لینا تھا مگر ایک بار پھر اس معاملے کو کھٹائی میں ڈال دیا گیا۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والے عالمی فلم فیسٹیول میں فلم زندگی تماشا پہلے ہی ‘کم جیسوئک’ نامی اعلیٰ فلمی ایوارڈ حاصل کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اسے نمائش کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا سامنا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ کا کہنا ہے کہ فلم کا موضوع عدم برداشت ہے ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر اس فلم سے متعلق کئی تبصرے کیے جارہے ہیں جس میں کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ یہ فلم مذہب کو ٹارگٹ کررہی ہے۔ اور یہی وجہ بن رہی ہے پاکستان میں اس فلم کے ریلیز کو روکنے کی۔  

اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ چند لوگ جو اس قدر مضبوط سپورٹ رکھتے ہیں کہ اس فلم کو ریلیز ہی نہیں ہونے دے رہے؟ اور سینسر بورڈ کے آخروہ کونسے کمزور کھوٹے ہیں جن کی بناء پر وہ اس فلم کی نشر کو روک رہے ہیں؟

حال ہی میں معوروف اداکار حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ اگر ایک ایسی فلم بن رہی ہے جو حساس مسئلے کی نشاندہی کررہی ہے تو اس پر اتنا واویلا مچانا صحیح نہیں ہے۔ میری تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ عدم برداشت کا رویہ ختم کردیں۔ اعتراض کرنے سے پہلے دیکھ تو لیں کہ فلم کا موضوع کیا ہے۔ فلم میں اسلام پر تنقید نہیں کی گئی ہے۔ یہ بہت اچھی فلم ہے جس کی کہانی ہی یہ ہے کہ اگر آپ نعت خواں ہیں، اللہ کی حمد پڑھتے ہیں تو اس لحاظ سے آپ پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، آپ کو ان سرگرمیوں سے دور رہنا پڑتا ہے، جس سے آپ کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ لہذا زندگی تماشا کو ’’ تماشا‘‘ نہ بنائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us