کردار چھوٹا یا کام؟

بچپن سے لے کر چند سال قبل تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا تھا جب ہمارے گھر میں تین وقت کے کھانے کے لیے پریشانی نہ ہوئی ہو۔ کبھی کبھی میں یہ سوچتی کہ اللہ نے ہمیں غریب کیوں پیدا کیا؟ جب پیدا ہونے سے پہلے انسان کا کوئی گناہ نہیں ہوتا تو پھر آخر کس گناہ کی سزا میں اس نے مجھے غریب گھر میں پیدا کیا؟ کیا وہ مجھ سے زیادہ پیار نہیں کرتا؟ یا وہ بھی ہمیں اسی نظر سے دیکھتا ہے جس سے دنیا میں موجود امیر لوگ دیکھتے ہیں؟

چھ بہن بھائیوں میں میرا نمبر چوتھا ہے۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے امی نے ہمارا داخلہ سرکاری اسکول میں کروایا تھا۔ میری امی کو بچپن سے ہی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا، وہ چاہتی تھیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بڑی کامیابی حاصل کریں اور جس طرح دوسرے لوگ سکون، آسائش اور عزت سے اچھے گھروں میں رہ کر زندگی گذارتے ہیں وہ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ ایسی ہی زندگی گزاریں مگر ایسا نہ ہوا۔

ہم جب بھی اسکول جاتے تو ہماری امی کہتی بیٹا قلم میں بہت طاقت ہوتی ہے تم پڑھ لکھ جاؤ گے تو تمہاری زندگی ہماری طرح مشکلات میں نہیں گزرے گی۔ میں ہر روز یہ جملہ سن کر گھر سے اسکول کے لیے نکلتی اور اسکول پہنچنے تک وہ سارے خواب اپنے ذہن میں تصویر کی شکل میں دیکھ لیتی۔ میری ماں نے مجھے ان باتوں کو کہہ کر جو خواب دکھائے اس نے میری راہ کو متعین کردیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے اسکول پہنچنے کے بعد ہمیں کلاس کی جھاڑو نکالنی ہوتی تھی جس کے بعد ہم دریاں جھاڑ کر زمین پر بچھاتے اور پھر اس پر بیٹھتے تھے۔ یہ سب کام کرنے کے بعد میں بہت تھک جاتی تھی مگر امی کے جملے میرا دھیان پڑھائی پر لگادیتے تھے۔  

میں ایک دھوبی کی بیٹی ہوں، محنت کرنے والا بہت عظیم ہوتا ہے، جو شخص محنت کرتا ہے اس کی بہت عزت کی جاتی ہے، ہمارے معاشرے میں یہ سب فضول بکواس کے علاوہ کچھ نہیں ہے،

محنت کرنے والے کی سب ہی عزت کرتے ہیں ہمارے معاشرے میں عملی لحاظ سے ایسا کچھ بھی نہیں۔ ہمارے یہاں عزت صرف امیر کی میراث ہے، غریب کو تو شاید جینے کا حق بھی نہیں۔ 

مجھے بہت غصہ آتا ہے ہمارے معاشرے کے دوغلے پن پہ، جہاں چور اور ڈاکو کو جھک کر سلام کرنے کا رواج عام ہو اور محنت کرنے والے کو ذلیل سمجھا جاتا ہو وہاں کیا ترقی۔۔۔۔ کیسی ترقی۔۔ کہاں کی عزت۔۔۔۔۔اور کون سی محنت کی عظمت۔

اسکول ہو یا کالج یا پھر مدرسہ میرے ابو کے دھوبی  ہونے کی وجہ سے مجھے ہمیشہ کسی اچھوت کی طرح دیکھا جاتا، سو کالڈ لبرل ہوں یا سچے اور پکے مسلمان۔۔۔ وہ اس لیے میرے ابو کو حقارت سے دیکھتے کہ وہ ان لوگوں کے گندے کپڑے دھوتے ہیں۔

پہلے مجھے یہ بات بہت تکلیف پہنچاتی تھی کہ میرے ابو سے کوئی ایسے بات کرے جیسے وہ انسان نہیں۔ میں امی سے ہمیشہ سوال کرتی۔ امی کیوں کوئی ہمیں عزت سے نہیں دیکھتا؟ کیا ہم عزت کے قابل نہیں ہیں؟ کیا لوگوں کے گندے کپڑے دھونا بہت گندا کام ہے؟ میری امی ہمیشہ ایک ہی جواب دے کر مجھے مطمئن کر دیتیں۔ وہ کہتی ! بیٹا تمہارے ابو جو کام کرتے ہیں اس میں کوئی برائی نہیں۔ بلکہ یہ تو بہت اچھا کام ہے لوگوں کے گندے کپڑے دھوکر انہیں صاف ستھرا کرکے وہ لوگوں کو دیتے ہیں تا کہ وہ ان صاف کپڑوں کو پہن کر اللہ کی عبادت کرسکیں اور خود کو صاف رکھ سکیں۔ اللہ تمہارے ابو سے بہت خوش ہوتے ہوں گے کہ میرا بندہ بہت محنت سے لوگوں کو کپڑے صاف کر کے دیتا ہے اور وہ اسے پہن کر مجھ سے ملنے آتے ہیں۔

میری طرح آپ بھی جب اپنے بچپن کے بارے میں سوچتے ہونگے تو آپ کو بھی یہ محسوس ہوتا ہوگا کہ اللہ نے ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور رکھی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہے تو بس اتنا کہ اپنی زندگی میں موجود ان نعمتوں کے بارے میں سوچیں جو اللہ نے ہمیں بغیر مانگے عطا کی ہیں،

مجھے بھی لاکھوں نعمتوں میں سے اللہ نے ایک بہت قیمتی نعمت عطا کر رکھی ہے جس نے بچپن میں مجھے اس احساس کمتری سے بچائے رکھا جس میں اگر میں چلی جاتی تو آج ایک تعلیم یافتہ اور کامیاب صحافی نہ ہوتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us