ماسک پر بھی منافع خوری

پاکستان کے وزیر مملکت برائے صحت ظفر مرزا کی گذشتہ روز پاکستان میں کرونا وائرس کے دو مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کرنے کے بعد سے پورے ملک میں ایک بے چینی کی سی کیفیت پائی جاتی ہے۔

ہر دوسرا تیسرا شخص کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ماسک کی تلاش میں ہے۔ جبکہ اب یہ حفاظتی ماسک زیادہ تر مارکیٹوں ، دکانوں اور میڈیکل اسٹورز سے غائب ہوچکے ہیں لوگوں کے خریدنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مہنگے داموں بیچنے کے لیے۔

عوام کا کہنا ہے کہ حفاظتی ماسک جوکہ مناسب قیمت میں ہر دکان ، میڈیکل اسٹور پر دستیاب تھے اب ہر جگہ سے غائب ہوچکے ہیں اور جن ایک دو دکانوں پر مل رہے ہیں انکی قیمت بہت زیادہ کردی گئی ہے۔ پاکستانی عوام منافع خوری میں کوئی ثانی نہیں رکھتی۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا۔ 22 سالہ کراچی کا رہائشی  یحییٰ جعفری ہے۔ اس نے حال ہی میں ایران کا سفر کیا تھا اور وہ بس کے ذریعے کراچی پہنچا تھا۔ جبکہ کرونا وائرس کا شکار ہونے والا پاکستانی شہری وفاقی علاقے کا رہنے والا ہے۔

ملک میں وائرس کی تصدیق کے بعد بچوں کو اس وائرس سے بچانے کے لیے سندھ اور بلوچستان میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بچوں کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کے ساتھ ساتھ مدرسے بھی 15 مارچ تک بند کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کرونا وائرس کا پھیلاؤ دسمبر دوہزار انیس میں مشرقی چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووھان سے شروع ہوا تھا۔ اب تک پوری دنیا میں رپوٹ کے  مطابق اسی ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد میں مریض چین میں ہیں ۔ دوسرے نمبر پر ایران اور اٹلی ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

اب تک اس وائرس سے دوہزار سات سو سے زائد افراد  لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ وائرس چین کے تیس شہروں کے علاوہ دنیا کے اڑتیس ملکوں میں سرایت کرچکا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us