طلبہ سے ڈر کون رہا ہے؟

طلبہ یونین سے اختلافات اپنی جگہ لیکن کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے ضد اور ان پرستی میں بینادی انصاف بھی فراہم کرنا بھول گئے؟ٍ یہ وہ سوال ہے جو کسی بھی انصاف کے حامی شخص کے دل میں عالمگیر وزیر کے ساتھ ہونے والے سلوک کو دیکھ کے آیا؟

ہم بات کر رہے ہیں عالمگیر خان، اور ان لوگوں کی گرفتاری کی جن کا قصور صرف اتنا تھا، کہ وہ ملک بھر میں جامعات میں طلبہ یونین کی حمایت میں ہونے والی تقاریب کا حصہ تھے۔ لیکن یہاں عالمگیر خان کا کیس اس لیے بھی مختلف ہے، کیوںکہ وہ جنوبی وزیرستان کے ایم این اے علی وزیر کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔۔۔ جو بظاہر ماورئے قانون گرفتاری ہی لگتی ہے۔

یہاں کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں قانون سے بڑھ کے بھی کوئی چیز ہے۔ لیکن عوام کی جان و مال کا تحافظ کرنے والا قانون، اُن کی حفاظت کرنے والا قانون، ملک میں نظم و ضبط بنانے والا قانون تو سنا تھا، لیکن کیا ایسا ہوتا ہے قانون جو چند احتجاج کرنے والے طلبہ سے در جائے؟ یا وہ جو طلبہ یکجہتی اور ان کے حقوق کی پاسداری بھی نہ کرسکے؟

یکم دسمبر ۲۰۱۹، لاہور میں طلبہ یونین کی حمایت میں نکالے جانے والی طلبہ یکجہتی مارچ میں شرکت کےے لیے آئے عالمگیر وزیر کو اُسی روز مارچ کے بعد ‘اغواء’ کر لیا گیا۔ اطلاعات یہ آنے لگیں کہ وہ “لاپتا” ہوگئے ہیں۔ لیکن پیر کے روز انہیں عدالت لایا گیا تو ان کے چہرے کو کپڑے سے چھپایا ہوا تھا جیسے وہ کوئی دہشتگرد ہوں یا ان پر کوئی سنگین الزام ہو۔

ان پر ایف آئی آر درج کی گئی جس میں الزام تھا کہ عالمگیر وزیر نے ملک مخالف نعرے لگائے اور اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں۔ یہ دونوں الزمات عالمگیر وزیر نے رد کر دیے ہیں۔

واضع رہے کہ عالمگیر وزیر کوئی عام طالب علم نہیں بلکہ علی وزیر کے قریبی رشتہ دار ہیں جنہیں کچھ ماہ قبل، اسی طرح ہی اپنے ساتھ محسن داور کے ساتھ جنوبی ورستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کو خر قمر واقعے کے بعد، کئے عرصے تک لاپتا رکھا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us