گمشدہ افراد، گمشدہ وکیل کی بازیابی: ایڈوکیٹ انعام الرحیم کی کہانی

ملکی تاریخ کا عجب واقعہ۔ لگتا ہے یہاں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی انصاف دیر سہی، لیکن مل تو رہا ہے۔۔۔ لگتا انصاف کی ذمہ داری کسی نے تو لی۔ کیوکہ یہاں لگتا یہ ہے جواپنے یا کسی دوسری کے لیے انصاف کی تلاش میں اگر کلتے ہیں تو انہیں یا تو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا گمشدگی کا۔ اور اگر کبھی مدد ہی گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے ہو اور انصاف دلوانے والا خود ہی اگر گمشدہ ہوجا$ے تو پھر پیچھے کسی کے لیے کیا اُمید باقی رہ جاتی ہے؟

ایڈوکیٹ انعام الرحیم، سابق فوجی افسر، جو ہمارے موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ہی ریجیمنٹ سے تعلق رکھتے تھے، فوج کے ایک اہم رطبے تک اپنے عہدے سے بدظن ہوگئے اور جلد ہی اس سے ریٹائرمنٹ اختیار کرلی۔ وہ شاید جان گئے تھے کے فوج کے اندرونی معملات اتنے گمبیر اور پیچیدہ ہیں کہ اس میں رہ کر نہیں، بلکہ چھوڑ کر وہ ملک اور قوم کی زیادہ خدمت کرسکتے ہیں۔ 2005 سے چند اہم واقعات کے بعد ملک کے حالات اتنے خراب ہوچکے تھے کہ گمشدگیاں اور گمشدہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنا ہر اآئے دن کا معمول بن گیا تھا۔ جبکہ آواز اُٹھانے والا اور ریاست کی ناانصافیوں کے بارے میں انصاف دینے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کو ریاست کی ناانصافیوں کے بارے میں بات کرسکے۔

ایسے میں ڈاکٹر انعام الرحیم نے وکالت کا پیشہ چنا اور ان لاپتا گمشدہ افراد کا مقدمہ لڑا اور کئی مقدمات میں کامیابی بھی حاصل کی۔

اس عمل میں انہیں دھمکیاں، ریاستی دباؤ اور درینہ نقصان کی کئی دھمکیاں ملیں لیکن یہ شاید ان کی سابق فوجی ٹرینگ تھی یا ان کی رگوں میں دوڑنے والا خون، جس نے انہیں کبھی ہار نہیں ماننے دی۔

پاک فوج میں رہنے اور اس کی باضابطگیوں کو قریب سے دیکھنے کا ان کا تجربہ ایسا تھا کہ کس طرح کیا، کہاں اور کیسے قانون کے خلاف کیا جارہا ہے۔ اور اس کو روکنے کے لیے کون سا قانون اور اآئین استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ پہلے ایڈوکیٹ تھے جنہوں نے مشرف کے بعد آنے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ملنے والی ایکسٹینشن کے خلاف عدالت کا رجوع کیا تھا کیوں فوج کے قانون کے مطابق اآرمی چیف کی مدت ملازمت تو 60 سال کی ہی ہے اس سے آگے جو بھی فوج میں خدمت انجام دے وہ غیر قانونی ہو گی۔

اس مقدمے کی نوعیت کی وجہ سے ان کو اُن کے گھر میں گھس کر نامعلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، لیکن اس عمل نے بھی ان کی ہمت اور حوصؒے کو پس نہیں کیا۔ قصہ کچھ یوں ہی چلتا رہا جب تک دسمبر میں کچھ نامعلوم افراد، جو سادہ لباس میں ملبوث تھے، انھوں نے ایڈوکیٹ انعام الرحیم کو نیند سے بیدار کر کے اغوائ کر کے لے گئے۔

ان کے بیٹے اور ساتھیوں نے علاقے کے تھانے میں گمشدگی اور اغوائ کا مقدمہ درج کروایا اور یوں یہ معاملہ راولپنڈی ہائی کورٹ جا پہنچا۔ کورٹ میں مغوی کے وکیل اور ساتھیوں کی جرع میں سیکٹری دیفنس نے انکشاف کیا کہ انعام الرحیم ان کی حراست میں ہیں اور انہیں آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ انعام ارحیم پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے فوج کے راض کسی تیسرے شخص پر افشاں کیے ہیں۔ اس پر عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا کہ ایک تو یہ بات واضع نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا بھی ہے یا نہیں اور دوسرا یہ کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کسی کو حراست میں لینے کا اور ڈیفینس منسٹری کا تو یہ کام بھی نہیں تھا۔ یہ قرار دیتے ہوئے عدالت نے آج اُن کی فوری بازیابی کا حکم دیا۔

لیکن یہاں سوال یہ بنتا ہے قانون نافذ کروانے والے اداروں کی یہ نااہلی بڑے اور نامور افراد کی باری میں تو عیاں ہو جاتی ہے، لیکن سالوں سے جبراۤ گمشدہ ہونے والے افراد نے ناجانے کتنے ظلم و ستم سہے ہونگے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp WhatsApp us